سانحہ گل پلازہ: مزید 12 افراد کی باقیات کی شناخت کرلی گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کو پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی واقعے میں جاں بحق افراد کی میتوں اور باقیات کی سپردگی کے معاملے پر پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے المناک واقعے کے بعد مزید 12 افراد کی باقیات کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد 12 افراد کی باقیات لواحقین کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
سی پی ایل سی کے ذرائع نے بتایا کہ اینٹی موٹم ڈیٹا کے ذریعے خضر علی، حیدر علی، عامر علی، ابوبکر، یاسین، صداقت اللہ، یوسف خان، نعمت اللہ اور عبد اللہ کی شناخت بھی ممکن ہوئی، شناخت کے عمل کے بعد ان 12 افراد کی باقیات قانونی طور پر ایدھی سردخانے سے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
سی پی ایل سی کے حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت اینٹی موٹم ڈیٹا اور گل پلازہ میں موجود پروف آف پریزنس کے ریکارڈ کی مدد سے کی گئی، نارتھ ناظم آباد سے شاپنگ کے لیے آئے ایک خاندان کے تین افراد کی شناخت بھی کی گئی، جن میں عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور بیٹے علی شامل ہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ کچھ انتہائی خستہ حال نمونوں سے ڈی این اے کے نتائج حاصل نہیں ہو سکے، جس کی وجہ سے شناخت کے عمل میں مشکلات پیش آئیں۔ تاہم گھڑی، انگوٹھی، بٹوہ اور دیگر ذاتی اشیاء کی مدد سے دو مزید لاشوں کی شناخت کی گئی، جو دکاندار ابو بکر اور ان کے ملازم عامر کی تھیں، جنہیں ابو بکر کے بیٹے تاج نے شناخت کیا۔
حکام کے مطابق ایک ہی خاندان کے تین افراد کی شناخت بھی مکمل کر لی گئی ہے، نعمت اللہ، عبد اللہ اور یوسف خان کی میتیں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے تصدیق کی گئیں، نعمت اللہ اور عبد اللہ سگے بھائی تھے جبکہ یوسف خان ان کا کزن تھا۔
ذرائع کے مطابق گل پلازہ کے اس المناک حادثے میں اب تک جاں بحق 39 افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن میں 20 افراد کی شناخت ڈی این اے، 6 کی چہرہ شناسی اور ایک کی شناختی کارڈ کی بنیاد پر کی گئی، جبکہ مجموعی طور پر اس سانحے میں 79 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افراد کی باقیات افراد کی شناخت گل پلازہ کے مطابق کی گئی
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔