پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے 3 اہم فیصلوں کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے 3 فیصلوں کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر کردی ہیں، جن کا تعلق جنسی زیادتی، قتل اور فوجداری مقدمات سے ہے۔
یہ درخواستیں ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل پنجاب احمد رضا گیلانی کے ذریعے عدالت میں پیش کی گئی ہیں۔
پہلی درخواست اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کو زنا بالرضا قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناکافی ثبوتوں کے باعث سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کو بری کر دیا
نظرثانی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ درست نہیں اور اس سے جنسی زیادتی کی شکار خاتون اور اس کے اہل خانہ پر مستقل داغ لگ گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہعدالتیں عام طور پر متاثرہ خاتون کے خلاف آبزرویشن دینے سے گریز کرتی ہیں تاکہ اس کی عزت میں کمی نہ آئے۔
اسی طرح ملزم کے مکروہ اقدام سے پیدا ہونے والے بچے کے قانونی اور سماجی کردار پر بات کرنے میں عدالت ناکام رہی۔
مزید پڑھیں: کیپٹن صفدر نے سپریم کورٹ سے کیوں رجوع کیا؟
دوسری نظرثانی درخواست 16 افراد کو قتل کرنے والے ملزم کی سزا کو الگ الگ کاٹنے کے بجائے ایک ساتھ شمار کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی سزا شمار کرنے کا فیصلہ مخصوص حالات اور حقائق کے تناظر میں نظر ثانی کے قابل ہے۔
فریقین کے بیانات کے مطابق اس مقدمے میں 2 خاندانوں کے مجموعی طور پر 21 افراد قتل ہوئے، جس کے تحت یہ معاملہ انسداد دہشت گردی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
مزید پڑھیں: انتظامی غفلت یا تاخیر سرکاری ملازمین کے بنیادی حقوق متاثر نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ
پنجاب پروسیکوشن نے کہا کہ عدالت کو یہ طے کرنا چاہیے کہ سزا اکھٹی ہوگی یا الگ الگ، جبکہ سپریم کورٹ پہلے ہی اپنے فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ عدالت کیس کے حقائق کے مطابق فیصلہ کرے۔
تیسری نظرثانی درخواست دیگر ملزمان کے ساتھ ایک مفرور ملزم کو بھی بری کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پنجاب حکومت اس سے پہلے بھی 2015 میں 11 سال بعد ڈی این اے ٹیسٹ کو بطور شہادت قبول نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کر چکی ہے۔
نظرثانی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی تعریف اور سزا کی شرائط سے متعلق سپریم کورٹ کے پیراگراف نمبر 16 اور 17 پر دوبارہ غور کیا جائے، تاکہ عدالت کے فیصلے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احمد رضا گیلانی پروسیکوشن پروسیکیوٹر جنرل پنجاب حکومت جنسی زیادتی زنا بالرضا سپریم کورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احمد رضا گیلانی پروسیکوشن پروسیکیوٹر جنرل پنجاب حکومت جنسی زیادتی زنا بالرضا سپریم کورٹ نظرثانی درخواست فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت جنسی زیادتی سپریم کورٹ گیا ہے کہ کے فیصلے کی گئی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔