غیر منصفانہ برطرفی کے شکار پولیس اہلکار مکمل واجبات کے حق دار، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ غلط برطرفی کا شکار ملازم پچھلے تمام واجبات حاصل کرنے کا حق دار ہے۔
عدالت نے تمام بقایا جات ایک ماہ کے اندر ادا کرنے کا حکم دیا اور خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جو پولیس اہلکاروں کے پچھلے واجبات دینے سے انکار کر رہا تھا۔
عدالتی پیغام اور اصولی موقفسپریم کورٹ نے فیصلے کے آغاز میں ایک نظم کے الفاظ درج کیے جس کے مطابق انصاف کا سورج طلوع ہوگا تو اندھیرے چھٹ جائیں گے۔ مزید براں عدالت نے ولیم شیکسپیئر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے۔ آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت ہر سرکاری افسر اپنے فیصلے کا ٹھوس، عقلی اور معقول جواز فراہم کرنے کا پابند ہے۔ صوابدیدی اختیارات ایک مقدس امانت ہیں، جو محض ذاتی پسند ناپسند کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔
ملازم اور محکمے کی ذمہ داریسپریم کورٹ نے ملازمین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملازم کو صرف یہ کہنا کافی ہے کہ وہ بیروزگار تھا، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا۔ جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ثبوت لانا محکمے کی ذمہ داری ہے۔ نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے برطرف ملازمین کو عہدوں پر بحال کرنے کے بعد ان کے پچھلے واجبات روک دیے گئے تھے۔
ملازمین کی استدعا تھی کہ بحالی کے بعد انہیں تمام پچھلے واجبات بھی ملنے چاہئیں، جبکہ محکمہ پولیس کا موقف تھا کہ پچھلے واجبات کی ادائیگی اتھارٹی کی صوابدید پر ہے۔
سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے یہ فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا۔
عدالت کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ غیر منصفانہ، متعصبانہ یا من مانے فیصلے کرنے والے حکام کے خلاف عدالتی مداخلت ناگزیر ہے اور ملازمین کے حقوق فوری طور پر یقینی بنائے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔