چین اور برطانیہ قریب، اسٹارمر اور شی جن پنگ کی اہم ملاقات، بڑے فیصلے متوقع
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور چین کے صدر شی جن پنگ نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے پر زور دیا ہے۔
بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کہا کہ برطانیہ اور چین کو مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ عالمی امن، استحکام اور مشترکہ چیلنجز، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی، سے نمٹا جا سکے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم عالمی نظام میں ان کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی بے چینی واضح طور پر گفتگو کا حصہ رہی۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں چین اور برطانیہ کے تعلقات کو مشکلات کا سامنا رہا، جو کسی کے مفاد میں نہیں تھا۔ ان کے مطابق موجودہ پیچیدہ عالمی حالات میں دونوں ممالک کو تعاون بڑھا کر عالمی امن اور استحکام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کہ کیئر اسٹارمر آٹھ برس بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات جاسوسی کے الزامات، یوکرین جنگ میں چین کے کردار اور ہانگ کانگ میں آزادیوں پر پابندیوں کے باعث کشیدہ رہے ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اپنی قومی سلامتی کا تحفظ کرتے ہوئے چین کے ساتھ سفارتی رابطے اور معاشی تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی واقعات کا اثر براہِ راست برطانوی عوام کی زندگی، مہنگائی اور سلامتی پر پڑتا ہے، اسی لیے برطانیہ کو دنیا کی طرف دوبارہ کھلنا ہوگا۔
اس دورے میں 50 سے زائد برطانوی کاروباری رہنما بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں، جن کا مقصد چین میں برطانوی کمپنیوں کے لیے نئے تجارتی مواقع تلاش کرنا ہے۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، جن میں انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے چینی ساختہ کشتی انجنوں کی غیر قانونی تجارت روکنے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دونوں ممالک نے کہا کہ
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔