قومی ادارہ صحت نے نیپاہ وائرس کی 100 جدید ٹیسٹنگ کٹس حاصل کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت (NHS) نے نیپاہ وائرس سے نمٹنے کے لیے 100 جدید ٹیسٹنگ کٹس حاصل کر لیں ہیں، جنہیں مشتبہ مریضوں کے نمونوں کی تصدیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ اقدامات وزیرِ صحت کے ماتحت سیکرٹری صحت حامد یعقوب کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بعد عمل میں لائے گئے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ مشتبہ نیپاہ مریضوں کے نمونے فوری طور پر قومی ادارہ صحت بھجوائے جائیں گے تاکہ بروقت تشخیص اور اقدامات ممکن بن سکیں، قومی ادارہ صحت نے اس ضمن میں صوبائی حکام کو بھی ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت نیپاہ کے لیے مخصوص اسپتال اور تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ سندھ حکومت نے نیپاہ وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ پاکستان کے تمام زمینی اور فضائی داخلی راستوں پر مسافروں کی 100 فیصد اسکریننگ نافذ کر دی گئی ہے۔ اس دوران مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی ٹریول ہسٹری چیک کی جا رہی ہے اور ہائی رسک افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
مشتبہ علامات جیسے بخار، سانس لینے میں دشواری اور اعصابی مسائل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، اور کسی بھی مشتبہ فرد کو فوری طور پر آئسولیٹ کر کے متعلقہ آئسولیشن یونٹ منتقل کیا جائے گا۔
قومی ادارہ صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اب تک پاکستان میں نیپاہ وائرس کا کوئی تصدیق شدہ کیس سامنے نہیں آیا، تاہم پیشگی حفاظتی اقدامات اور سخت نگرانی کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کے امکانات کو صفر کرنے کی کوشش جاری ہے۔
یہ اقدامات ملک میں صحت کے نظام کی مضبوطی اور ہنگامی وبائی صورتحال سے نمٹنے کی استعداد کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے کیے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیپاہ وائرس
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔