Jasarat News:
2026-07-24@01:40:23 GMT

مضبوط سماجی تعلقات ذہنی صحت کے لیے مفید ثابت: تحقیق

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی اور یونیورسٹی لاوال کے محققین نے ایک اہم تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کے سماجی تعلقات ان کی علمی کارکردگی اور ذہنی صحت پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مضبوط اور فعال سماجی نیٹ ورک رکھنے والے بزرگ افراد کی علمی صلاحیتیں کمزور سماجی تعلقات رکھنے والے افراد کے مقابلے میں نمایاں بہتر ہوتی ہیں۔

اس تحقیق کے لیے محققین نے کینیڈین لونگیٹیوڈینل اسٹڈی آن ایجنگ (CLSA) کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس میں تقریباً 30 ہزار شرکاء شامل تھے، جن کی عمر 45 سے 84 سال کے درمیان تھی۔ تحقیق میں 24 مختلف سماجی پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا، جن میں خاندان، دوستوں اور کمیونٹی کے ساتھ تعلقات شامل تھے۔

عمر رسیدہ افراد کی علمی صحت کا اندازہ تین اہم شعبوں میں لگایا گیا، ایگزیکٹو فنکشن، ایپیسوڈک میموری، اور پروزپیکٹیو میموری۔ محققین نے پایا کہ وہ افراد جو متوسط یا مضبوط سماجی تعلقات رکھتے ہیں، ان کی علمی کارکردگی ان افراد سے بہتر ہے جو محدود یا کمزور سماجی روابط کے حامل ہیں۔

تحقیق کی شریک مصنف ڈیوا نیلسن نے کہا کہ یہ نتائج پچھلی تحقیقات کے مشابہ ہیں اور اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ کمزور سماجی تعلقات سگریٹ نوشی، جسمانی بیماریوں اور موٹاپے کی طرح ہی ذہنی صحت کے لیے خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔

ڈیوا نیلسن نے زور دیا کہ بزرگ افراد میں علمی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط سماجی نیٹ ورک کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

یہ تحقیق صحت کے شعبے میں اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ذہنی اور علمی صحت کو بہتر بنانے کے لیے صرف جسمانی فٹنس یا غذائیت ہی نہیں بلکہ سماجی تعلقات اور کمیونٹی میں فعال شرکت بھی اتنی ہی اہم ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سماجی تعلقات کی علمی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار