ٹی20 ورلڈ کپ؛ بھارت کی جانب سے اسکاٹ لینڈ کیلئے بھی رکاوٹوں کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی جگہ شامل ہونے والی اسکاٹ لینڈ ٹیم کے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھارت کی جانب سے ویزوں کے اجرا میں ممکنہ مشکلات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اسکاٹ لینڈ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ورلڈ کپ میں شامل کیے جانے کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے بروقت بھارت پہنچنے کے لیے ویزوں اور دیگر سفری انتظامات کا عمل شروع کر دیا ہے۔ تاہم تیاریوں کے باوجود ایک بڑا مسئلہ پاکستانی نژاد فاسٹ بولر صفیان شریف کے ویزے سے متعلق سامنے آیا ہے، جنہیں دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں اضافی رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی ورلڈ کپ کے لیے امریکا اور انگلینڈ کی ٹیموں میں شامل پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھارتی ویزے حاصل کرنے میں خاصی مشکلات پیش آئیں، اسی تناظر میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صفیان شریف کو بھی اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کرکٹ اسکاٹ لینڈ کے چیف ایگزیکٹیو ٹروڈی لنڈبلیڈ نے کرک انفو سے گفتگو میں کہا کہ ٹورنامنٹ کے لیے ویزوں کا بروقت حصول اس وقت انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس معاملے پر آئی سی سی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہ کر کام کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسکاٹ لینڈ ورلڈ کپ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔