افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا؟ عدالت نادرا حکام پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے فیملی ٹری میں غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران نادرا حکام پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
عدالت میں درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان شہری کو درخواست گزار کی فیملی ٹری میں شامل کر لیا گیا ہے، اب درخواست گزار کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے گئے ہیں۔
اس پر جسٹس عدنان الکریم میمن نے نادرا کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا گیا؟
جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ یہ تو پاکستانی ہیں ان کے شناختی کارڈز کیوں بلاک کر دیے گئے؟ ایک شخص کی وجہ سے پوری فیملی کو کیوں پھنسایا گیا؟
عدالت نے حکم دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر کوئی غیر متعلقہ شخص درخواست گزار کی فیملی میں شامل ہے تو نام خارج کیا جائے۔
جسٹس ذوالفقار علی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پیسے لے کر ہر فیملی میں پتہ نہیں کتنے بندے شامل کر دیے ہوں گے۔
بعد ازاں عدالت نے نادرا کو 10 روز میں پوری فیملی کی قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: درخواست گزار
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔