ٹی 20 ورلڈکپ: حارث رؤف ٹیم میں شامل نہ ہونے پر کرکٹ ماہرین حیران
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی اسکواڈ میں فاسٹ بولر حارث رؤف کے نام نہ شامل ہونے پر آسٹریلیا کے سابق کپتان مائیکل کلارک اور ایرون فنچ نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔
بی بی ایل میں شاندار کارکردگی کے باوجود حارث رؤف کے اسکواڈ میں شامل نہ ہونے پر ایرون فنچ نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے غیر متوقع تھا۔
فنچ نے کہا کہ حارث رؤف ٹیم میں ایکس فیکٹر لے کر آتے ہیں، بس کبھی کبھار تھوڑے مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے اہم چیز وکٹیں لینا ہے، خاص طور پر فلیٹ پچز پر، اور حارث اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔
دوسری جانب مائیکل کلارک نے بھی کہا کہ انہیں حارث رؤف کی سلیکشن نہ ہونے پر حیرت ہوئی، لیکن آسٹریلیا میں کھیلنے کی کنڈیشنز سری لنکا اور بھارت سے مختلف ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسکواڈ بنانے کے دوران کھیل کے مقام اور کھلاڑی کے رول کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
کلارک نے مزید کہا کہ حارث رؤف کا بی بی ایل میں جو رول تھا، وہ ورلڈ کپ کے لیے منتخب اسکواڈ میں مکمل طور پر موزوں نہیں لگتا۔ انہوں نے کھلاڑی کی فارم کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کھلاڑی کو ٹورنامنٹ میں اچھی فارم اور کارکردگی کے ساتھ آنا ضروری ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسکواڈ میں ہونے پر کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔