پاکستان کا سی پیک کو افغانستان تک پھیلانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
فوٹو: فائل
پاکستان نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو افغانستان تک پھیلانے کا فیصلہ کرلیا۔
حکام دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سی پیک کو افغانستان تک پھیلانے کا فیصلہ کرلیا۔ پاکستان اور افغانستان کے حالات عارضی خراب ہیں، چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ علاقائی تعاون کے فریم ورک بھارت کی وجہ سے چل نہیں رہے ہیں، سارک کا فورم بھارت کی وجہ سے چل نہیں رہا ہے، اس وجہ سے ہم علاقائی ممالک کے ساتھ روابط قائم کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق چین کے افغانستان میں دہشتگردی کے حوالے سے خدشات ہیں، پاکستان کے بھی افغانستان کے حوالے سے خدشات ہیں، چینی شہریوں کو افغانستان میں خطرات لاحق ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کا افغانستان پر موقف یکساں ہے۔
سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی ایک عالمی خطرہ ہے جو سب کو درپیش ہے، دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کےلیے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی بنیادی وجہ دہشتگرد تنظیموں کی بارڈر کراسنگ کو روکنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کو افغانستان
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔