امریکی مداخلت کا مقابلہ عراقیوں کا قومی فریضہ ہے، حزب اللہ عراق
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ چیز ہے جسے ہمارے عوام کا وقار اور ایمان کبھی قبول نہیں کرے گا، بالخصوص وہ لوگ جنہوں نے اپنے وطن، مقدس مقامات اور خود مختاری کے دفاع میں بے شمار شہداء کی قربانیاں دیں۔ اسلام ٹائمز۔ خطے بالخصوص عراق کے سیاسی اور داخلی معاملات میں امریکی مداخلتوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے حزب اللہ عراق نے ان مداخلتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عراقیوں کے اتحاد پر زور دیا۔ خبررساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق عراق کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پسندانہ تقریروں اور عراق کی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے عراقی تحریکوں اور شخصیات کے رد عمل کے تسلسل میں حزب اللہ عراقی بریگیڈ نے گزشتہ رات ایک بیان جاری کیا اور اعلان کیا ہے کہ امریکی حکومت کی عراق کے معاملات میں واضح مداخلت جو امریکی نظام کے دائرہ کار میں مداخلت کی کوشش کر رہی ہے، عراق میں سیاسی فیصلہ سازی کے عمل پر اپنی مرضی تسلط مسلط کرنا۔
حزب اللہ عراقی بریگیڈز نے مزید کہا کہ اس لیے ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عراقیوں کا قومی فریضہ اس بات کا متقاضی ہے کہ امریکی مداخلتوں کو صفوں کو متحد کرنے، خود مختاری کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور عراقی قومی فیصلہ سازی کی آزادی کو مستحکم کرنے کی ترغیب میں تبدیل کیا جائے، امریکہ کا یہ متکبرانہ اور ڈھٹائی پر مبنی رویہ عراقی سیاسی قوتوں کو ایک اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے، جو تنگ نظری، اختلافات اور کم نظری کے حساب کتاب سے بالاتر ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ امریکی مداخلتیں عراقی سیاسی قوتوں سے اس ذلت آمیز تسلط کو مسترد کرنے کے لیے متحد موقف اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہیں، امریکی مداخلت پسندانہ موقف عراق میں کسی مخصوص جماعت کو نشانہ نہیں بناتا، لیکن اس کا واضح سیاسی مطلب عراق کو امریکی مینڈیٹ کے تحت رکھنا، جہاں امریکہ جسے چاہے لگاتا ہے اور جسے چاہے برخاست کر دیتا ہے، جس کا مطلب عراق کی خودمختاری کے جوہر کو کمزور کرنا ہے۔ عراقی حزب اللہ نے تاکید کی کہ اگر امریکہ کی اس احمقانہ پالیسی کا عراقیوں کی طرف سے مزاحمت اور مخالفت کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ عراق کو امریکی تسلط کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی راہ پر گامزن کر دے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ چیز ہے جسے ہمارے عوام کا وقار اور ایمان کبھی قبول نہیں کرے گا، بالخصوص وہ لوگ جنہوں نے اپنے وطن، مقدس مقامات اور خود مختاری کے دفاع میں بے شمار شہداء کی قربانیاں دیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات عراق کے سیاسی معاملات اور ملک کی حکومت کی تشکیل کے بارے میں ایک مداخلت پسندانہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ عظیم ملک عراق نوری المالکی کو دوبارہ وزیراعظم بنا کر بہت برا انتخاب کر سکتا ہے۔
انہوں نے سوشل نیٹ ورک سوشل ٹروتھ پر لکھا کہ اگر نوری المالکی منتخب ہو گئے تو امریکہ عراق کی مزید مدد نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ نوری المالکی کی واپسی ماضی کی افراتفری اور غربت کو دہرانے، امریکی حمایت کے خاتمے، اور عراق کو ترک کرنے کا باعث بنے گی جس میں کامیابی، خوشحالی یا آزادی کا کوئی موقع نہیں ہے۔ ٹرمپ کے مداخلت پسندانہ اور ڈھٹائی کے بیانات کے جواب میں المالکی نے اعلان کیا کہ امریکہ کی کھلم کھلا مداخلت وزیراعظم کے انتخاب کے لیے رابطہ کاری کے فریم ورک کے فیصلے پر حملہ ہے، ملکوں کے درمیان بات چیت ہی واحد سیاسی آپشن ہے، نہ کہ ڈکٹیشن اور دھمکیوں کی زبان کا سہارا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مداخلت پسندانہ امریکی مداخلت حزب اللہ عراق کی مداخلت عراق کے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ