بھارت میں حاملہ خاتون کمانڈو کا بیدردی سے قتل؛ ہولناک جرم کی دردناک کہانی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بھارتی دارالحکومت دہلی میں قتل کی ایک ہولناک واردات میں حاملہ خاتون سوَات کمانڈو جان سے گئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے بتایا کہ 27 سالہ کاجل چوہدری اسپیشل ویپن اینڈ ٹیکٹیس کی تربیت یافتہ کمانڈو اور چار ماہ کی حاملہ تھیں۔
کاجل چوہدری کی شادی 2023 میں انکور نامی شخص سے ہوئی تھی اور جوڑے کا ایک ڈیڑھ سالہ بیٹا بھی ہے۔
انھیں مبینہ طور پر ان کے شوہر نے گھریلو جھگڑے کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا اور سر پر ورزش کرنے والے بھاری ڈمبل سے وار کیا۔
جس سے خاتون کمانڈو کا سر پھٹ گیا اور تیزی سے خون بہنے لگا جو ان کی موت کا سبب بن گیا۔ انھیں اسپتال لے جایا گیا جہاں موت کی تصدیق کردی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس دردناک کہانی کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک تعلیم یافتہ شوہر نے فرض شناس اور وطن پر جان نچھاور کرنے کی خواہش رکھنے والی کمانڈو کو محض جہیز نہ لانے پر مارا۔
کاجل کے بھائی نکھل پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں کانسٹیبل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ واقعے کے روز ان کی بہن نے فون کیا تھا اور ہماری بات چیت کے دوران ہی شوہر انکور نے ڈمبل سے حملہ کیا۔
نکھل نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کاجل کی ساس اور دو نندیں انہیں مسلسل جہیز کے لیے ہراساں کرتی تھیں جب کہ شوہر انکور نے بھی کاجل کے والدین سے بھاری رقم لی تھی۔
پولیس نے انکور کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے اور وہ عدالتی تحویل میں ہے۔ انکور وزارتِ دفاع میں کلرک کے طور پر تعینات تھا۔
واضح رہے کہ کاجل چوہدری 2022 میں دہلی پولیس میں بھرتی ہوئیں اور ترقی کرتے ہوئے اسپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس (SWAT) ٹیم میں بطور کمانڈو تعینات ہوئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :