کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی سے وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کا سندھ بھر میں باقاعدہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر): ترجمان حکومتِ پاکستان برائے سندھ راجا خلیق الزمان انصاری نے کہا ہے کہ آج این ای ڈی یونیورسٹی کراچی سے سندھ بھر میں وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس کے تحت صوبہ سندھ کے طلبہ و طالبات میں 20 ہزار جدید لیپ ٹاپس تقسیم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیرِاعظم پاکستان جناب محمد شہباز شریف کے اس وژن کا عملی مظہر ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کر کے انہیں بااختیار بنانا ہے۔ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت پر سرمایہ کاری دراصل ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
راجا خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ بدقسمتی سے 2018 میں سابق حکومت (پی ٹی آئی) نے یہ اہم تعلیمی اسکیم بند کر دی تھی، جس سے لاکھوں طلبہ جدید تعلیمی سہولیات سے محروم ہو گئے۔ موجودہ وفاقی حکومت نے نہ صرف اس اسکیم کو بحال کیا بلکہ اسے مزید مؤثر، شفاف اور وسیع دائرہ کار کے ساتھ دوبارہ شروع کیا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین جناب رانا مشہود خان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں یوتھ پروگرام نے نوجوانوں کے لیے حقیقی مواقع پیدا کیے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم یوتھ پروگرام سندھ کے کوآرڈینیٹر جناب فہد شفیق کی کاوشیں بھی قابلِ تعریف ہیں جنہوں نے سندھ بھر میں اس پروگرام کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا۔
ترجمان حکومتِ پاکستان برائے سندھ نے مزید کہا کہ لیپ ٹاپ اسکیم کے ذریعے طلبہ تحقیق، جدید علوم، آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں گے، جو قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ کے نوجوانوں کو نظر انداز نہیں کر رہی بلکہ تعلیم، روزگار اور ٹیکنالوجی کے میدان میں انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
آخر میں راجا خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نوجوانوں کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے پورے کرے گی اور تعلیم دوست پالیسیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔