شتروگھن سنہا نے 16 ویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بھارتی ریاست گریٹر نوئیڈا میں شتروگھن سنہا نے گھریلو جھگڑے کے بعد 16 ویں منزل سے کود کر اپنی جان دے دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گریٹر نوئیڈا کے علاقے بسرکھ میں واقع پیرا ماؤنٹ ایموشنز سوسائٹی میں پیش آیا۔
جہاں ایک سافٹ ویئر انجینئر 38 سالہ شتروگھن سنہا نے مبینہ طور پر اپنی سالی پر چاقو سے حملہ کیا اور پھر 16ویں منزل سے کود کر خودکشی کرلی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شتروگھن سنہا کا اپنی اہلیہ سے کسی بات پر شدید جھگڑا ہوا تھا اور اس نے مبینہ طور پر بیوی پر حملے کی کوشش کی تھی۔
اسی دوران سالی نے مداخلت کی تو سنہا نے سبزی کاٹنے والے چاقو سے اس پر وار کیا، جس سے اس کے ہاتھ پر زخم آئے اور خون بہنے لگا۔
شتروگھن سنہا کی اہلیہ نے بہن کو تکلیف میں دیکھا تو پولیس کو بلانے کے لیے کال کی جس پر وہ بدنامی کے ڈر سے گھبرا گیا اور خود کو کمرے میں بند کرلیا۔
جب اہلیہ اور سالی نے دروازے کھولنے کی دھمکی اور اسے پولیس کے آنے سے ڈرایا تو اس نے گھر کی بالکونی سے چھلانگ لگادی۔ وہ زمین پر گرا اور موقع پر ہلاک ہوگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی سالی کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے شتروگھن سنہا کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنہا گزشتہ چھ ماہ سے بے روزگار اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔
اس واقعے سے قبل اس نے شراب نوشی بھی کی تھی جبکہ پڑوسیوں کے بقول میاں بیوی کے درمیان اکثر جھگڑے رہتے تھے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ شتروگھن سنہا آئی ٹی کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر تھا۔ اس کی شادی کو تقریباً 11 سال ہوچکے تھے اور 8 سالہ بیٹا بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شتروگھن سنہا کی اہلیہ بھی ایک آئی ٹی کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شتروگھن سنہا
پڑھیں:
ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظامپنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع
اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔
موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیںنئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاریٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔
مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کارشہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن