سندھ ہائی کورٹ: افغان شہری کو فیملی ٹری میں شامل کرنے پر نادرا کو 10 روز میں جائزہ لینے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:سندھ ہائی کورٹ نے افغان شہری کو پاکستانی شہری کی فیملی ٹری میں شامل کرنے کے معاملے پر نادرا حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور حکم دیا کہ وہ 10 روز کے اندر درخواست گزار کی پوری فیملی کے قانونی دستاویزات کا جائزہ لیں۔
عدالت میں سماعت ایک ایسی درخواست پر ہوئی جس میں پاکستانی شہری کے فیملی ٹری میں افغان شہری نقیب اللہ کے شامل ہونے کے خلاف موقف اختیار کیا گیا تھا، وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ نادرا کے بعض حکام رشوت لے کر افغان شہریوں کو پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں شامل کر دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں، جن میں سے 20 لاکھ نے پاکستانی شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں اور بعض افغان شہری شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے ذریعے دنیا بھر میں سفر کر رہے ہیں۔
وکیل کے مطابق افغان شہری نقیب اللہ کو درخواست گزار محمد اکرم کے فیملی ٹری میں شامل کرنے کے بعد نادرا نے درخواست گزار کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ تو پاکستانی شہری ہیں، ان کے شناختی کارڈز کیوں بلاک کیے گئے؟
نادرا کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کے والد کے بائیو میٹرک تصدیق کے بعد نقیب اللہ کو فیملی ٹری میں شامل کیا گیا۔ عدالت نے نادرا کو واضح طور پر ہدایت کی کہ اگر کوئی غیر متعلقہ شخص فیملی ٹری میں شامل ہے تو اس کا نام فوراً خارج کیا جائے اور 10 روز کے اندر مکمل فیملی دستاویزات کا جائزہ لیا جائے۔
عدالت کا یہ اقدام نادرا کی جانب سے شناختی کارڈز کی غیر قانونی شمولیت اور بلاک کرنے کے معاملات کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیملی ٹری میں شامل کر درخواست گزار افغان شہری
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔