غیرملکی کو پاکستانی خاندان کی فیملی ٹری میں کیسے شامل کر دیا؟ سندھ ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کراچی:(نیوزڈیسک)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے نادرا کی جانب سے فیملی ٹری میں غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے کے خلاف درخواست پر حکام کو 10 روز میں پوری فیملی قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو نادرا کی جانب سے فیملی ٹری میں غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف دیا کہ نادرا حکام رشوت لے کر افغان شہریوں کو پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں شامل کر دیتے ہیں۔ 40 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں ہیں تو 20 لاکھ نے پاکستانی شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں۔ افغان شہری پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر دنیا بھر میں گھوم رہے ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ افغان شہری نقیب اللہ کو درخواست گزار کی فیملی ٹری میں شامل کرلیا گیا۔ اب درخواست گزار محمد اکرم کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے ہیں۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو پاکستانی ہیں ان کے شناختی کارڈز کیوں بلاک کر دیے ہیں؟ ایک نقیب اللہ کی وجہ سے پوری فیملی کو کیوں پھنسایا گیا ہے؟
جسٹس ذوالففار علی سانگی نے ریمارکس میں کہا کہ پیسے لے کر ہر فیملی میں نجانے کتنے بندے شامل کر دیے ہوں گے؟
نادرا کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواست گزار کے والد کے بائیو میٹرک کے بعد نقیب اللہ کو ان کی فیملی ٹری میں شامل کیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ نادرا کسی کا بائیو میٹرک کسی اور جگہ استعمال کر دیتا ہے، درخواست گزار نے بائیو میٹرک نہیں دیا۔
عدالت نے نادرا حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ افغان شہری کو پاکستانی خاندان کی فیملی ٹری میں کیسے شامل کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی غیر متعلقہ شخص درخواست گزار کی فیملی کی فیملی ٹری میں شامل ہے تو نام خارج کیا جائے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس میں کہا کہ پاکستانی شہریوں کی فیملی ٹری میں غیر ملکی کو کیسے شامل کر لیا گیا؟ عدالت نے نادرا کو 10 روز میں پوری فیملی کے قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی فیملی ٹری میں درخواست گزار پوری فیملی کہا کہ
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔