آپریشن سندور سے متعلق سی ایچ پی ایم کی جانبدارانہ رپورٹ، ماہرین نے سنجیدہ سوالات اٹھادیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
آپریشن سندور سے متعلق سی ایچ پی ایم کی رپورٹ پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جسے ماہرین نے غیر معروضی اور تجزیاتی سختی سے عاری قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ’آپریشن سندور پر آپ ویڈیو بنانے میں جلدی کرگئے‘، پاکستانی کے سوال پر دھرو راٹھی لاجواب ہوگئے
ناقدین کے مطابق رپورٹ میں بھارتی مؤقف اور بیانیے پر حد سے زیادہ انحصار کیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس موجود شواہد، متضاد حقائق اور منطقی تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں متنازع دعوؤں کو حقائق کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور قابلِ تصدیق جوابی شواہد کو شامل نہیں کیا گیا جس کے باعث رپورٹ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرزِ عمل نے رپورٹ کو ایک سنجیدہ اسٹریٹجک تجزیے کے بجائے وکالتی یا جانبدارانہ تحریر بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: آپریشن سندور میں بھارت کے کتنے اور کون کون سے جنگی طیارے تباہ ہوئے، تفصیلات سامنے آگئیں
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی پالیسی یا سیکیورٹی تجزیے کے لیے ضروری ہے کہ تمام دستیاب شواہد، مختلف نقطۂ نظر اور زمینی حقائق کو غیر جانبداری سے پرکھا جائے، تاہم مذکورہ رپورٹ اس بنیادی معیار پر پورا نہیں اترتی جس سے اس کی افادیت اور معتبر حیثیت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر