اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت نے تاریخ میں پہلی بار قرضہ مدت سے پہلے واپس کرنا شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 14 ماہ میں تین ہزار 654 ارب روپے کا اندرونی قرضہ قبل از وقت ادا کیا گیا۔

مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران تین ہزار 364 ارب روپے کا اندرونی قرضہ قبل از وقت ادا کیا گیا جبکہ آج اسٹیٹ بینک کو مزید 300 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا قرضہ تقریباً 44 فیصد کم ہو چکا ہے اور مالی سال 2025،26 میں قرضہ واپسی دو ہزار ایک سو پچاس ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ  قرضہ جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد کے قریب آ گیا ہے جبکہ عوامی قرضہ اسی اعشاریہ پانچ کھرب سے کم ہو کر اسی کھرب روپے رہ گیا ہے۔

امریکی فوج ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے پر عملدرآمد کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، پیٹ ہیگسیتھ

مشیرِ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ بہتر نظم و ضبط سے حکومت کو سود اور قرضوں میں تقریباً 850 ارب روپے کی بچت ہوئی اور قرضوں کی اوسط مدت 2.

7 سال سے بڑھ کر 4 سال سے زائد ہو گئی ہے، جس سے معیشت مزید مستحکم ہوئی ہے۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ارب روپے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا