سانحہ گل پلازہ کی 21 صفحات پر مشتمل حتمی رپورٹ سامنے آگئی، بڑے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ سے متعلق کمشنر کراچی کی 21 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کر دی گئی۔
کمشنر کراچی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں رات دس بج کر 15 منٹ پر آگ لگی پہلا فائر ٹینڈر دس بج کر چالیس منٹ یعنی پچیس منٹ بعد موقع پر پہنچا جبکہ دس بج کر پچاس سے 55 منٹ پر آگ کو تیسرے درجے کا قرار دیا گیا۔
تاہم انکوائری رپورٹ میں کسی فرد یا ادارے پر براہِ راست ذمہ داری عائد نہیں کی گئی۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق آگ گل پلازہ کی فلاور اینڈ گفٹ شاپ میں لگی، جہاں 11 سالہ بچے کی جانب سے ماچس جلانے کے باعث مصنوعی پھولوں نے آگ پکڑ لی اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلے تیزی سے پھیل گئے جس سے پوری عمارت لپیٹ میں آگئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے کے پانچ منٹ بعد چوکیدار نے بجلی منقطع کی، تاہم غیر محفوظ برقی نظام آگ کی شدت میں اضافے کا سبب بنا۔ واقعے کے وقت گراؤنڈ فلور پر آگ کے باعث سیڑھیوں میں دھواں بھر گیا، جس کے نتیجے میں راستے بند ہو گئے اور متعدد افراد دکانوں میں پھنس گئے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق کے ایم سی کا پہلا فائر ٹینڈر رات 10 بج کر 40 منٹ پر گل پلازہ پہنچا، جبکہ دوسرا فائر ٹینڈر 10 بج کر 49 منٹ پر موقع پر پہنچا۔
ریسکیو 1122 کی ٹیم 10 بج کر 53 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچی۔ فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچنے کے تقریباً دس منٹ بعد یعنی 10 بج کر 50 منٹ پر آگ کو تیسرے درجے کی آگ قرار دیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ کے پاس مناسب آلات اور حفاظتی گیئر موجود نہیں تھے، جس کے باعث آگ پر بروقت قابو نہ پایا جا سکا۔ شدید آگ کے سبب دستیاب فائر فائٹنگ سامان بھی مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔ پانی کی فراہمی میں بھی تاخیر ہوئی، فائر ٹینڈر کے پہنچنے کے بعد پہلا باؤزر تقریباً رات 11 بج کر 53 منٹ یعنی تقریباً ایک گھنٹے بعد موقع پر پہنچا جبکہ مسلسل پانی کی فراہمی آدھی رات کے بعد ممکن ہو سکی۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق میزنائن فلور پر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے میٹل کٹر دستیاب نہیں تھے، جس کے باعث لوہے کی جالیوں کو کاٹنے میں تاخیر ہوئی۔ آگ کی شدت میں اضافے کے پیشِ نظر مختلف اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے باعث عمارت کے تین حصے مکمل طور پر مخدوش ہو گئے۔ انکوائری رپورٹ مرتب ہونے تک 79 افراد کو لاپتہ رپورٹ کیا گیا، جن میں سے ابتدائی طور پر چھ افراد کی لاشیں موقع سے ملیں جبکہ بعد ازاں تمام 73 افراد کی باقیات اور اعضاء برآمد کر لیے گئے۔ لواحقین کے لیے 56 ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ فائر آڈٹس تو کیے گئے، تاہم ان پر عملدرآمد جانچنے کے لیے کوئی مؤثر فالو اپ نہیں ہوا۔ سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ کی رپورٹس فائلوں تک محدود رہیں، جبکہ عمارت میں راہداریوں کی واضح نشاندہی بھی نہیں کی گئی تھی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ منظور شدہ بلڈنگ پلان میں حفاظتی اور ماحولیاتی اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تبدیلیاں کی گئیں۔ دکانوں کی تعداد 1102 سے بڑھا کر 1153 کر دی گئی، سیڑھیوں کی چوڑائی نمایاں طور پر کم کی گئی، جبکہ عمارت کے داخلی دروازوں کی تعداد 18 سے کم کر کے 13 کر دی گئی۔انکوائری کمیٹی نے فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کی استعداد کار بڑھانے کی سفارش بھی کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انکوائری رپورٹ رپورٹ کے مطابق فائر ٹینڈر رپورٹ میں گیا ہے کہ گل پلازہ کیا گیا کے باعث کی گئی
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔