سانحہ گل پلازا پر حکومتی کمیٹی کی تفتیشی رپورٹ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازا میں 80 افراد جاں بحق ہوئے - فوٹو: سوشل میڈیا
حکومتی کمیٹی کی سانحہ گل پلازا پر تفتیشی رپورٹ سامنے آگئی۔ رپورٹ میں فائر بریگیڈ اور پولیس کی نااہلی کو اُجاگر کیا گیا ہے۔
کراچی میں سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے قائم حکومتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور پر نیو توکل فلاور اینڈ گفٹ شاپ میں رات سوا دس بجے لگی۔ دکان مالک نے 11 سال کے بیٹے کو دکان پر چھوڑا ہوا تھا، جس نے ماچس کی تیلی جلائی جو غلطی سے مصنوعی پھولوں پر گر گئی۔ آگ بھڑکی اور آتش گیر مواد کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ چوکیدار نے پانچ منٹ بعد بجلی بند کر دی، اس وقت عمارت کے اندر تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار لوگ موجود تھے۔ غیر محفوظ برقی وائرنگ، ایئر کنڈیشنرز اور کھلے پائپس نے صورتحال کو سنگین بنادیا، عمارت میں بیسمینٹ کے علاوہ مرکزی ایئر کنڈیشننگ سسٹم موجود نہیں تھا۔ ای سی ڈکٹس کے ذریعے بہت کم وقت میں آگ بیرونی گیٹس کی چھت تک جا پہنچی۔
سانحۂ گل پلازا میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے مزید 12 افراد کی باقیات کی شناخت کر لی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کے وقت گراؤنڈ فلور کے 3 تا 4 گیٹس کھلے ہوئے تھے، گراؤنڈ فلور پر سیڑھیوں اور راستوں میں دھواں بھر گیا، جس سے لوگ دکانوں میں پھنس گئے۔ عمارت میں موجود خارجی راستے بند تھے یا تجاوزات قائم ہوچکی تھی، فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں نمایاں تاخیر ہوئی، پہلا واٹر باؤزر رات 11 بجکر 53 منٹ پر پہنچا، مسلسل پانی کی فراہمی رات 12 بجے کے بعد شروع ہوئی۔
لوگوں کو نکالنے کے لیے لوہے کی راڈز کاٹنے کے آلات موجود نہیں تھے، فائر فائٹرز کے پاس مناسب آلات، حفاظتی سامان، مطلوبہ تربیت اور مہارت نہیں تھی، ہجوم کو قابو میں رکھنے اور علاقے کو گھیرے میں لینے کے پولیس اقدامات مؤثر نہ تھے، ہجوم جمع ہونے کے باعث فائر فائٹنگ کی کوششیں متاثر ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں دکانوں کی تعداد 1102 سے بڑھا کر 1153 اور سیڑھیوں کی چوڑائی کم کی گئی جبکہ دروازوں کی تعداد 18 سے کم کر کے 13 کر دی گئی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ عدالتی تحقیقات کےلیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ اس طرح کی آگ بجھانے کیلئے متعلقہ اداروں میں کوئی باقاعدہ ڈرل نہیں کروائی گئی۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ تمام ہائی رسک عمارتوں کا فوری آڈٹ کروایا جائے، خلاف ورزی پر جرمانے، جزوی بندش یا سیل کرنے کی کارروائی کی جائے۔ بلڈنگ کنٹرول اور منظوری کے نظام میں اصلاحات کی جائیں، تمام عمارتوں میں فائر ایکسٹینگشرز، فائر ایگزٹ راستے یقینی بنائے جائیں۔
رپورٹ میں تجویز یہ بھی تجویز دی گئی کہ ایمرجنسی انخلا مشقوں کی تنصیب و نگرانی یقینی بنائی جائے، تمام فائر فائٹنگ اداروں کو جدید فائر فائٹنگ اور ریسکیو آلات سے لیس اور اپ گریڈ کیا جائے۔ سول ڈیفنس، کے ایم سی فائر ڈپارٹمنٹ اور ریسکیو 1122 کو ایک ہی کمانڈ کے تحت ضم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازا رپورٹ میں
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت