شہباز شریف اور ایران کے صدر کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے لیے پائیدار مذاکرات اور سفارتی تبادلہ خیال کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے بلکہ دوطرفہ ادارہ جاتی میکنزم کے ذریعے اعلیٰ سطح کے روابط اور مشاورت کو جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
حکام کے مطابق یہ گفتگو دونوں ممالک کے تعلقات میں تعاون، خطے میں پائیدار امن اور سیاسی و اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی حکمت عملی کے تحت عمل میں آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔