data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد،غزہ،واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ،خبر ایجنسیاں)ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے، پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا ہے کہ پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس کو خلوصِ نیت سے جوائن کیا، پاکستان سمیت 7 دیگر اہم مسلم ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی، بورڈ آف پیس کے ذریعے پاکستان فلسطین میں امن کا خواہاں ہے، پاکستان غزہ کی تعمیرِ نو اور بہتری کے لیے بورڈ آف پیس کا حصہ بنا۔ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس سے متعلق ابراہیم اکارڈ کے الزامات بے بنیاد ہیں، غزہ بورڈ آف پیس کا ابراہیم اکارڈ سے کوئی تعلق نہیں، بورڈ آف پیس کے فریم ورک پر عملدرآمد کے لیے پاکستان پْرامید ہے، پاکستان 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے، آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے۔طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانا ہے، بورڈ آف پیس کا دوسرا مقصد غزہ کی تعمیر نو میں معاونت ہے، تیسرا مقصد فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اکیلا نہیں بلکہ7 دیگر مسلم ممالک بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں، سعودی عرب، مصر، اردن،یو اے ای، انڈونیشیا اور قطر بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں، بورڈ آف پیس کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں اجتماعی کوشش کے تحت ہوا، بورڈ آف پیس غزہ اورمسئلہ فلسطین کے لیے امید کی کرن ہے۔انہوں نے کہا کہ 2 برس سے غزہ کے عوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہیں، اقوام متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہیں، بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری حاصل ہے، بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ معاون پلیٹ فارم ہے۔طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے، پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر تبصرہ نہیں کریں گے ، ڈی آئی خان حملے میں افغان حملہ آور کی شمولیت ایک پیٹرن ہے، اصل میں افغان نیشنلز پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں، ڈی آئی خان حملے کا معاملہ دوطرفہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر اٹھایا گیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ایمان مزاری کیس میں جج مجوکہ کے ایران سے متعلق ریمارکس ذاتی رائے ہے، ایران سے متعلق ایسا کوئی مؤقف پاکستان کا نہیں ہے۔دفتر خارجہ نے جج مجوکہ کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا جب کہ ایمان مزاری کیس میں جج مجوکہ نے ایران کو دہشت گرد ریاست قرار دیا تھا۔علاوہ ازیںاقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیدیا۔مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر خطاب کے دوران غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔پاکستانی مندوب نے غزہ میں حملے ، جبری نقل مکانی اور تباہی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان یو این تنصیبات اور یو این آر ڈبلیو اے پر حملوں کی مذمت کرتاہے۔پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے پر عملدر آمد ضروری ہے۔پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیاکہ مستقل جنگ بندی، انسانی امداد اور غزہ کی فوری تعمیر نو کی جائے، فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے، 1967 سے قبل کی سرحدوں پر خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران واضح کردیا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی غیر متزلزل ہے۔پاکستانی مندوب نے اسرائیل سے شام اور لبنان میں بھی غیر قانونی کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔دریں ا ثناء فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی اس نے رفح سرحدی گزرگاہ کو آئندہ چند دنوں میں مکمل طور پر کھولنے پر زور دیا ہے۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، فائلیں تیار ہیں اور مختلف شعبوں میں اختیارات کی منتقلی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کی مکمل سول انتظامیہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کی جائے گی۔یہ 15 رکنی نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) امریکی سرپرستی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت قائم کی گئی ہے، جو 10 اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہے۔یہ کمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی اور ایک اعلیٰ نگراں بورڈ کے تحت کام کرے گی، جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔کمیٹی کے سربراہ اور فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ رفح بارڈر کھلتے ہی غزہ میں داخل ہوں گے۔ حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ رفح گزرگاہ دونوں سمتوں میں مکمل آزادی کے ساتھ کھولی جائے اور اس میں اسرائیلی رکاوٹیں شامل نہ ہوں۔قبل ازیں امریکا نے غزہ کی غیر فوجی کارروائی کا منصوبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں حماس کا کسی بھی صورت حکومتی کردار قبول نہیں۔امریکی مندوب کے مطابق غزہ میں تمام سرنگیں اور اسلحہ ساز فیکٹریاں تباہ ہوں گی، بین الاقوامی مبصرین غزہ میں اسلحہ تلفی کے عمل کی نگرانی کریں گے، غزہ میں اسلحہ ضبطی کیلیے عالمی سطح پر بائی بیک پروگرام پر غور جاری ہے۔امریکی منصوبے کے تحت حماس کے ہتھیار ڈالنے پر مرحلہ وار اسرائیلی انخلا ہوگا، غزہ میں بین الاقوامی ا سٹیبلائزیشن فورس تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، امریکی فوجی جنرل کی قیادت میں فورس امن و استحکام قائم کرے گی، امریکا، مصر اور قطر جنگ بندی کے ضامن ہوں گے۔دوسری جانب روس اور چین نے امریکی قرارداد پر اقوام متحدہ میں احتجاج کیا اور ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینے سے گریز کیا۔دوسری جانب حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے میں وزیراعظم نیتن یاہو کی سنگین غفلت اور بدانتظامی سامنے آئی ہے جس پر اپوزیشن نے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔اس بات کا انکشاف اسرائیل کے نشریاتی ادارے ’چینل 12‘ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جس نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو نے حماس کے غزہ میں سربراہ یحییٰ السنوار کو قتل کرنے کے 11 مواقع جان بوجھ کر ضائع کیے تھے۔رپورٹ میں ایک سینئر دفاعی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا کہ یحییٰ السنوار کو قتل کرنے کے یہ 11 مواقع فروری اور مارچ 2023 کے دوران ملے تھے۔انھوں نے چینل 12 کو مزید بتایا کہ ملکی داخلی سلامتی ادارے شِن بیٹ نے متعدد بار یحییٰ السنوار کی موجودگی کا مقام معلوم کرلیا تھا اور کارروائی کے لیے سفارش کی تھی۔دفاعی عہدیدار کے بقول تاہم وزیرِاعظم نیتن یاہو نے نہ صرف یحییٰ السنوار پر حملے کی منظوری نہیں دی بلکہ اس پر باقاعدہ اجلاس بلانے سے بھی گریز کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اجازت دیدیتے تو حماس کی قیادت تل ابیب پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کرتے اور نہ ہی یہ طوریل جنگ شروع ہوتی۔ دوسری جانب وزیرِاعظم ہاؤس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔بیان میں کہا گیا کہ نیتن یاہو بارہا حماس کی قیادت کے خاتمے پر زور دیتے رہے لیکن یہ سیکورٹی قیادت تھی جس نے ایسا کرنے سے روکا۔وزیرِاعظم ہاؤس کے بقول اس بات کی تصدیق اْن اجلاسوں کی تحریری کارروائیوں (minutes) سے ہوتی ہے جو حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے بلائے گئے تھے۔ادھر حماس کی مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ یحییٰ السنوار کی لوکیشن معلوم کرنے کے بعد بھی نشانہ نہ بنانا اس بات کی غماز ہے کہ آنکھوں پر پردہ پڑ گیا تھا اور یہ ایک معجزہ ہی ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستانی مندوب نے طاہر حسین اندرابی بورڈ ا ف پیس میں ابراہام معاہدے بورڈ ا ف پیس کو اعظم نیتن یاہو بورڈ ا ف پیس کا کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست میں شمولیت کا بین الاقوامی سلامتی کونسل اقوام متحدہ میں کہا گیا پاکستان نے کہ پاکستان دفتر خارجہ رپورٹ میں نے کہا کہ کی قیادت کرنے کے کے ساتھ حماس کے حماس کی غزہ کی کے تحت کیا ہے گیا ہے کا حصہ

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

پاکستان نے تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں بھی ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ہے۔قومی ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی کا کہنا تھا آسٹریلیا کے خلاف پہلا ون ڈے جیتنے والی ٹیم کو ہی برقرار رکھا گیا ہے۔خیال رہے کہ پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی، تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار