غزہ بورڈ آف پیس کا ابراہم اکارڈ سے تعلق نہیں، پاکستان آزاد فلسطین کا حامی ہے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کا ابراہم اکارڈ سے تعلق نہیں ہے۔ پاکستان آزاد فلسطین کا حامی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں ہفتے صدر مملکت متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور دوستانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حال ہی میں ڈیوس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے واپسی پر ابوظبی میں اسٹاپ اوور کے دوران اتصالات کے اعلیٰ عہدیداران سے بھی ملاقات کی جس میں باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان سے متعلق ٹریول ایڈوائزری کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، جس سے مزید غیر ملکی اور پاکستانی شہری پاکستان کا سفر کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی ٹریول ایڈوائزری میں پاکستان کو ایک محفوظ ملک کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے جو ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے ۔ اس دورے کی تاریخوں کا اعلان جلد متوقع ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔
غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے خلوصِ نیت سے اس فورم میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ پاکستان سمیت 7 دیگر اہم مسلم ممالک بھی اس بورڈ کا حصہ بنے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بورڈ کے ذریعے پاکستان فلسطین میں امن، تعمیر نو اور بہتری کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق ابراہم اکارڈ سے جوڑنے کے الزامات بے بنیاد ہیں ۔ اس فورم کا ابراہم اکارڈ سے کوئی تعلق نہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ ڈی آئی خان حملے میں افغان حملہ آور کی شمولیت ایک پیٹرن ہے، اصل میں افغان نیشنلز پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں۔ ڈی آئی خان حملے کا معاملہ دوطرفہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر اٹھایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ابراہم اکارڈ سے غزہ بورڈ آف پیس نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔