سانحہ گل پلازہ ، جی ڈی اے نے انکوائری کمیٹی و سب کمیٹی مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف ر پورٹر)جی ڈی اے رہنماؤں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر صفدر عباسی، لیاقت علی خان جتوئی اور سردار عبدالرحیم نے گل پلازہ آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی اور وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں بنائی گئی سب کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سانحے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سینئر ججز کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کمیشن قائم کر کے اس کی رپورٹ عوام کے سامنے 72 گھنٹوں می لائی جائے تاکہ اصل وجوہات اور ذمہ داروں کو عوام کے سامنے لایا جا سکے۔گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے اپنی نا اہلی چھپانے کی خاطر خود اپنی ہی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹیاں انصاف کے تقاضوں کے منافی ہیں اور ان کا مقصد وزیراعلیٰ سندھ سمیت ذمہ دار حکومتی عناصر اور پلازہ مالکان کو بچانا ہے تاکہ اصل مجرم قانون کی گرفت سے محفوظ رہیں۔ جی ڈی اے رہنماؤں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر صفدر عباسی، لیاقت علی خان جتوئی اور سردار عبدالرحیم کے مطابق یہ کمیٹیاں غیر جانبدار نہیں ہیں اسی لیے نہ عوام کو ان پر اعتماد ہے اور نہ ہی متاثرین کو ان سے کسی قسم کے انصاف کی توقع ہے۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ زرداری لیگ گزشتہ 17 برسوں سے سندھ میں اقتدار میں ہے، مگر اس طویل عرصے میں صوبے کو خوشحالی دینے کے بجائے بدعنوانی، ناقص حکمرانی اور لوٹ مار کے ذریعے سندھ کو بنجر کر دیا گیا ہے۔ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے کرپشن کو فروغ دیا گیا جس کا خمیازہ آج معصوم شہری بھگت رہے ہیں۔ جی ڈی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ گل پلازہ کا سانحہ محض حادثہ نہیں بلکہ فائر سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی، انتظامی نااہلی اور حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آتشزدگی کے دوران اگر فوری طور پر متاثرہ شہریوں کو دیواریں توڑ کر باہر نکالنے کی اجازت دی جاتی تو قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، مگر یہ اقدام نہ کرنا بھی سندھ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی سنگین نااہلی کا واضح ثبوت ہے، جس کے باعث اموات میں اضافہ ہوا۔جی ڈی اے کا کہنا ہے کہ انکوائری کے نام پر سست روی اور تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں جو انصاف میں براہِ راست رکاوٹ ہیں، جبکہ متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ متاثرہ دکانداروں کے کاروبار کو فوری طور پر بحال کیا جائے، آتشزدگی میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے ورثاء کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے اور محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرین کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ جی ڈی اے نے خبردار کیا کہ اگر متاثرین کو انصاف نہ ملا تو عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جی ڈی اے رہنماو ں سندھ حکومت
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔