data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف ر پورٹر)جی ڈی اے رہنماؤں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر صفدر عباسی، لیاقت علی خان جتوئی اور سردار عبدالرحیم نے گل پلازہ آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی اور وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں بنائی گئی سب کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سانحے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سینئر ججز کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کمیشن قائم کر کے اس کی رپورٹ عوام کے سامنے 72 گھنٹوں می لائی جائے تاکہ اصل وجوہات اور ذمہ داروں کو عوام کے سامنے لایا جا سکے۔گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے اپنی نا اہلی چھپانے کی خاطر خود اپنی ہی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹیاں انصاف کے تقاضوں کے منافی ہیں اور ان کا مقصد وزیراعلیٰ سندھ سمیت ذمہ دار حکومتی عناصر اور پلازہ مالکان کو بچانا ہے تاکہ اصل مجرم قانون کی گرفت سے محفوظ رہیں۔ جی ڈی اے رہنماؤں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر صفدر عباسی، لیاقت علی خان جتوئی اور سردار عبدالرحیم کے مطابق یہ کمیٹیاں غیر جانبدار نہیں ہیں اسی لیے نہ عوام کو ان پر اعتماد ہے اور نہ ہی متاثرین کو ان سے کسی قسم کے انصاف کی توقع ہے۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ زرداری لیگ گزشتہ 17 برسوں سے سندھ میں اقتدار میں ہے، مگر اس طویل عرصے میں صوبے کو خوشحالی دینے کے بجائے بدعنوانی، ناقص حکمرانی اور لوٹ مار کے ذریعے سندھ کو بنجر کر دیا گیا ہے۔ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے کرپشن کو فروغ دیا گیا جس کا خمیازہ آج معصوم شہری بھگت رہے ہیں۔ جی ڈی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ گل پلازہ کا سانحہ محض حادثہ نہیں بلکہ فائر سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی، انتظامی نااہلی اور حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آتشزدگی کے دوران اگر فوری طور پر متاثرہ شہریوں کو دیواریں توڑ کر باہر نکالنے کی اجازت دی جاتی تو قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، مگر یہ اقدام نہ کرنا بھی سندھ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی سنگین نااہلی کا واضح ثبوت ہے، جس کے باعث اموات میں اضافہ ہوا۔جی ڈی اے کا کہنا ہے کہ انکوائری کے نام پر سست روی اور تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں جو انصاف میں براہِ راست رکاوٹ ہیں، جبکہ متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ متاثرہ دکانداروں کے کاروبار کو فوری طور پر بحال کیا جائے، آتشزدگی میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے ورثاء کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے اور محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرین کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ جی ڈی اے نے خبردار کیا کہ اگر متاثرین کو انصاف نہ ملا تو عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہو گی۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جی ڈی اے رہنماو ں سندھ حکومت

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن