دہشت گردی کا سدباب کیسے ممکن ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
دہشت گردی کی موجودہ لہر ریاست،حکومت اور معاشرے کا سنگین چیلنج ہے ۔کیونکہ اس دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے نہ صرف ہمارا سیکیورٹی نظام متاثر ہورہا ہے بلکہ براہ راست سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے ملک مزید بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔دہشت گردی سے جو بھی جڑے مسائل ہیں اس کی نوعیت جہاں داخلی مسائل سے جڑی ہوئی ہے ، وہیں علاقائی صورتحال اور بالخصوص بھارت اور افعانستان سے بھی ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے ۔افغان سرزمین براہ راست پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے تو دوسری طرف یہ بھی کڑوی حقیقت ہے کہ ہمیں داخلی محاذ پر بھارت اور افغانستان کی جانب سے پاکستان پراکسی جنگ کا بھی سامنا ہے ۔
اسی بنیاد پر ہمارے دہشت گردی سے جڑے مسائل تواتر کے ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں اور ہم دہشت گردی کے خاتمہ کا کوئی پائیدار سطح کا علاج تلاش نہیں کرسکے ہیں ۔سفارت کاری کے محاذ پر بھی یہ تو تسلیم کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو علاقائی سطح پر دہشت گردی جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے لیکن ان مسائل کو پیدا کرنے میں جو کردار بھارت اور افغانستان کا ہے، اس کے خلاف عالمی طاقتیں یا قوتیں یا عالمی سفارت کی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت ان ممالک کے خلاف دیکھنے کو نہیں مل رہی۔
2025میں اگر ہم دیکھیں یا دہشت گردی کے تناظر میں جائزہ یا تجزیہ کریں تو داخلی سطح پر کوئی اچھی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ اس دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ایسے لگتا ہے کہ دہشت گردی سے جڑے مسائل پاکستان کے نظام میں معمول کی کارروائی کی سطح پر دیکھے جارہے ہیں یا ہم ان واقعات کے عادی ہوگئے ہیں ۔اسلام آباد کے تھنک ٹینک جو سیکیورٹی کے معاملات کا جائزہ لیتا ہے یعنی انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی ’’ پاکستان سیکیورٹی رپورٹ ’’2025 کے مطابق ملک بھر میں 699دہشت گردی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں جو2024کے مقابلے میں 34فیصد زیادہ ہیں ۔
ان حملوں میں 1034افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں اور 1366افراد عملا زخمی ہوئے ہیں جو ہلاکتوں میں 21فیصد اضافہ کی نشاندہی کرتا ہے ۔یہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کا مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے اور ہم آسانی سے اس سے جان نہیں چھڑاسکیں گے۔یہ ایک ایسا بحران ہے جس نے مجموعی طور پر ہماری ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس پر قابو پانا بطور ریاست ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے یا نظر آتا ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف عام آدمی کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف ہماری سیکیورٹی کے اہم افسران، اہلکار یا دیگر اداروں یا دفاتر کو بالخصوص ٹارگٹ بنا کر ایک خوف کی فضا قائم کی جارہی ہے۔دہشت گرد یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اب ہمارا اصل ٹارگٹ عام آدمی کم اور سیکیورٹی سے جڑے افراد اور ادارے زیادہ ہیں۔ جب ایک خاص مقصد کے تحت اداروں کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے ایک ہی منطق ہوتی ہے سیکیورٹی اداروں کو جہاں تقسم کرنا ہوتا ہے وہیں یہ پیغام بھی دینا ہوتا ہے کہ ہم ریاست اور ریاستی اداروں کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری فوج یا سیکیورٹی ادارے یا اہلکار یا فوجی جوان یا افسران اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ پر نہ صرف لڑرہے ہیں بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر شہادت کا درجہ یا وطن کی خاطر قربان بھی ہورہے ہیں ۔لیکن اس جنگ سے ہم کیسے نمٹیں گے او رکیسے اس جنگ کا خاتمہ ہوگا یہ سوال ہماری سیاست یا ریاست کے سامنے ایک بڑے اہداف کی صورت میں ہمیشہ سوالیہ نشان کے طور پر رہے گا۔کیونکہ ہم جو دہشت گردوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں یا ان کے جو بھی بندوبست یا سہولت کار یا ٹھکانے ہیں ان کا خاتمہ ہماری ترجیحات کا حصہ ہیں ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی اس وقت بھی کم ہونے کی بجائے جہاں بڑھ رہی ہے وہیں دہشت گرد بھی ہماری داخلی نوعیت کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہماری ریاستی یا حکومتی رٹ کو دہشت گردی کی بنیاد پر چیلنج کررہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردوں کو مختلف حوالوں سے سیاسی ،انتظامی ،مالی اور اسلحہ کی بنیاد پر سپورٹ یا سہولت کاری مل رہی ہے وگرنہ تنن تنہا اس طرز کی دہشت گردی کو طوالت دینا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اصل چیلنج یہ ہے کہ دہشت گردی ہو یا دہشت گرد ان کو کسی بھی سطح پاکستان کی مخالفت میں منظم ہونے سے روکنا ہے اور ان کا جو باہمی ایجنڈا ہمیں پاکستان کو سیاسی اور معاشی یا سیکیورٹی کے عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے اس کے آگے بندھ باندھنا ہوگا۔لیکن یہ کام پاکستان سیاست کی سطح پر تن تنہا نہیں کرسکے گا بلکہ اس کے لیے ہمیں علاقائی اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے ۔ایک مسئلہ ہماری داخلی سیاست کا بھی ہے جس میں ہمیں خیبر پختونخواہ کی سطح پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان ٹکراو یا حکمت عملی کی سطح پر تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے ۔سیاسی بیان بازی میں ایک دوسرے سے متضاد بیانات اور الزام تراشیوں کی سیاست نے بھی ہمارے داخلی سطح کے مسائل میں اضافہ کیا ہے ۔
حالانکہ اس اہم اور نازک موڑ پر تمام سیاسی جماعتوں بشمول حکومت ہو یا حزب اختلاف یا سیکیورٹی اداروں کی سطح پر باہمی اتفاق رائے اور مشترکہ حکمت عملی میں ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔یہاں مسئلہ اس داخلی سیاسی کشمکش کا بھی ہے جس نے اس دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور اس کی حکمت عملی کو بھی متاثر کیا ہے ۔مسئلہ محض خیبر پختونخواہ تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک اور صوبے یعنی بلوچستان میں بھی ہمیں دہشت گردی کا سامناہے اور اس کے تانے بانے بھی علاقائی ممالک کے ساتھ جڑے نظر آتے ہیں۔ایک ہی وقت میں دو صوبوں کی سطح پر داخلی انتشار اور دہشت گردی کے حالات ہمیں داخلی محاذ پر جنجھوڑرہے ہیں اور ہمیں اس تناظر میں اپنی سیاسی یا سیکیورٹی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دیناہوگا۔یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ہم نے دہشت گردی سے نمٹنے کی اس جنگ کا سارا بوجھ عسکری قیادت پر ڈالا ہوا ہے ۔
ہماری سیاسی قیادت چاہے وہ وفاق یا صوبوں کی سطح پر ہو یا وہ دیگر دو صوبے پنجاب اور سندھ ان معاملات میں کوئی بڑ نہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اس جنگ کی سیاسی قیادت میں ان کا کوئی کردار نظر آتا ہے ۔محض بیان بازی کی حد تک ان کا کردار حالات کو بہتر بنانے کی بجائے اور زیادہ خرابی کی طرف دکھیلتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں اس وقت بھی دہشت گرد نہ صرف منظم ہیں بلکہ کئی مقامات پر ان کی رٹ بھی موجود ہے۔یعنی دو صوبے خیبر پختونخواہ او ربلوچستان دہشت گردی کی فرنٹ لائن بنی ہوئی اور ہم اس وقت بھی داخلی سیاست مین الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس کاہمیں بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ معیشت کی گاڑی کا پہیہ ایک طرف سیاسی اور دوسری طرف سیکیورٹی کے عدم استحکام کی وجہ سے ہمارے مسائل کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔اگرچہ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں ن بھی دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا ہے اور مسلسل دہشت گردوں کو عملا ختم بھی کیا جارہا ہے مگر حیرت اس بات پر ہے کہ دہشت گردمزیدبڑی تعداد میں سامنے آجاتے ہیں۔جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی جس کو افغان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اس پر افغان حکومت کا ہماری حمایت میں نہ کھڑا ہونا اور دوسری طرف پی ٹی آئی کی پالیسی میں بھی ٹی ٹی پی کے بارے میں بالخصوص ان کی صوبائی قیادت میں موجود سیاسی جھول بھی ہمارے لیے مسائل پیدا کررہا ہے ۔ہمیں ہر سطح پر یہ اس بنیادی نقطہ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹی ٹی پی اس وقت پاکستان مخالف قوت ہے اور اس کا سدباب کیے بغیر ہم ہم اپنی داخلی سیکیورٹی اور سلامتی کو کسی بھی سطح پر ممکن نہیں بناسکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کو دہشت گردی کی دہشت گردی کے دہشت گردی کا سیکیورٹی کے ہے کہ دہشت حکمت عملی کی سطح پر کے خلاف ہیں اور اور اس ہے اور ہیں کہ اور ہم
پڑھیں:
مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں