ہر جان قیمتی، مریم نواز: مین ہول واقعہ پر ذمہ دار اداروں کی سخت سرزنش، 4 افسر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر+ نامہ نگار) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ پر سخت اظہار برہمی کیا اورانتظامیہ، ایل ڈی اے،واسا سمیت ذمہ داراداروں کی کارکردگی پر سخت سرزنش کی ۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا زاہد حسین،اصغر سندھو،سیفٹی انچار ج دانیال اورپراجیکٹ مینجر احمد نوازکو عہدے سے ہٹانے اورگرفتارکرنے کا حکم دے دیا۔کنٹریکٹر کو سانحہ میں جاں بحق خاتون کے شوہر کو کنٹریکٹر کی طرف سے ایک کروڑ روپے زرتلافی اور حکومت کی طرف سے روزگار کے لئے ٹیکسی مہیا کرنے کی ہدایت کی۔ بھکر کے دورہ سے واپسی کے فورا ًبعد لاہور ائیر پورٹ کے لاؤنج میں ہنگامی اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ کی رپورٹ پیش کی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر عدم اعتمادکا اظہار کیا۔کہا کہ بھاٹی گیٹ صوبے کا دوردراز علاقہ نہیں ہے بلکہ لاہور کا ایک معروف علاقہ ہے۔جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔اس علاقے میں کنسٹرکشن سائیٹ پر انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیاگیا۔کام بند ہونے کے بعد کنٹریکٹر اورور کرز مین ہول کھلا چھوڑ کرچلے گئے۔دنیا بھر میں ہر کنسٹرکشن سائیٹ پر حفاظتی اقدامات کا پورا پورا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسسٹنٹ کمشنرنے وزٹ کر کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی زحمت ہی نہیں کی۔ کنٹرکشن سائیٹ پر پینا فلیکس اوربینرز لگادینا ہی کافی نہیں کہ کنسٹرکشن ہورہی ہے اگر اندھیرا ہوگاتو کون لائیٹ جلا کر پینا فلیکس پڑھے گا۔ بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ میں کنٹریکٹر،سپروائز،کنسلٹنٹ،کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور،اسسٹنٹ کمشنر،ایل ڈی اے اوروا سا بھی برابر کے قصور وار ہیں۔شہر کے پرائم ایریا میں کام ہورہا ہے اور لوگوں کو پتہ تک نہیں کہ وہاں کام ہورہا ہے۔داتا دربار جیسے علاقے میں کسی نے پارکنگ بنا لی اورلوگوں سے پیسے لے رہا ہے۔کسی ادارے کو علم ہی نہیں،ٹریفک پولیس کہاں،پولیس کو بھی علم نہیں۔یہ انتہائی افسوسناک امرہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ کنسرکشن سائیٹ پر کام ہورہا ہو تو سمجھ میں آتی ہے اور کام ختم کرنے کے بعد مین ہول کو لوگوں کو مرنے کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ سب کو اندازہ ہوگا کہ میں اس معاملے میں اتنی سختی کیوں کرتی ہوں۔ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ میٹنگ میں مین ہول کے کورکے معاملے پر زوردیتی ہوں کیونکہ مین ہول میں کبھی امیر آدمی نہیں مرتا بلکہ ہمیشہ سڑک پر چلنے والے غریب ہی گر کر مرتے ہیں۔ذرا سوچئے کہ وہ میری یا آپ کی بیٹی ہوتی تو میں آپ سے پوچھتی تو پورا سسٹم ہل کر رہ جاتا۔ جنہوں نے مین ہول کھلا چھوڑا کیا ان کے اپنے بچے نہیں ہیں۔اتنی بڑی مجرمانہ غفلت کہنا بھی چھوٹی بات لگتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ یہ امر باعث افسوس ہے کہ مین ہول واقعہ کے بعد یہ کہا گیا کہ وہاں سے کسی کا پاؤں نہیں گزر سکتا تو جسم کیسے گزر سکتا ہے اور اسی بات سے کنفیوژن پھیلی اور متاثرہ فیملی کی مدد کرنے کی بجائے ان کو قاتل بنا کر پوچھ گچھ کیلئے تھانے لے گئے۔ مرنے والی خاتون کے والد نے کہہ دیا کہ ان کے تعلقات ٹھیک نہیں تھے لیکن میں پوچھتی ہوں کہ وہ آپ کے پاس باہمی تعلقات کی شکایت نہیں لے کر آئے تھے، وہ توآپ کے پاس مین ہول میں گرنے کی شکایت لے کر آئے تھے۔ میں خود ورچوئل دورے کر کے اضلاع میں چیزوں کا جائزہ لیتی ہوں اورغفلت کے ذمہ داروں کو فارغ کیا جاتا ہے۔کھلے مین ہول جیسی غفلت پر ڈی سی کو فارغ کرتی ہو ں۔ فیصل آباد کی ایک ویڈیو میں دیکھا کہ ایک مین ہول کھلا ہوا ہے اورٹریفک پولیس کا اہلکار قریب آیا تو اس نے لوگوں کو دور کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ راجن پور یا دوردراز علاقے میں وقوع پذیر نہیں ہوا بلکہ لاہور میں پیش آیا ہے۔ میں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے لئے سیف سٹی اتھارٹی ہیڈ کو کال کی تو انہوں نے فوراًجا کر سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی۔ ساڑھے سات بجے تک کی فوٹیج ہے اورکیسے ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد دو منٹ میں کوئی کسی کو مار کر وہاں پھینک جائے۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہا کہ ذمہ دار اداروں کی نالائقی، غفلت کی وجہ سے نہ صرف خاتون کی جان گئی بلکہ دس ماہ کی بچی بھی جان کی بازی ہار گئی۔ ان کو دیکھ کر ذمہ داروں کو خدا کا خوف نہیں آتا۔ یہاں دس دس ادارے موجود ہیں لیکن ذمہ دارکوئی بھی نہیں۔ مین ہول والے ایشو پر زیادہ زور دیتی ہوں کیونکہ یہ پنجاب ہے یہاں میرے لئے ہر ایک جان قیمتی ہے۔ صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور کی جان بھی جان ہوتی ہے۔ پنجاب ایسی جگہ نہیں جہاں خدانخواستہ گرکر مرجاء ے تو کسی کو پروا نہیں،یہاں میں بھی جواب دہ ہوں اور آپ کو بھی جواب دینا ہوگا۔ واقعہ کو گھمانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔ ایسے دکھایاگیا کہ جیسے کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ ہر سطح پر مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا گیا۔ پہلے ہم سے کہا گیا کہ کوئی عورت گری ہی نہیں جبکہ وہ تین کلومیٹر دور تک پہنچ گئی۔ ہم یہ کہہ رہے تھے کہ وہ گری ہی نہیں اوراس کے بعد اس کے شوہر کو پکڑ کر تھانے لے گئے۔ بجائے اس کے کہ اس کو دلاسہ دیتے کہ ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں اورہم انہیں ڈھونڈتے ہیں۔عظمی بخاری کا اس سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ انہیں بھی وہی انفارمیشن مل رہی تھی جو ہم سب کو ملی۔ مجھ سے اتنے یقین کہ ساتھ بات کی گئی کہ یہ واقعہ وقوع پذیر ہی نہیں ہوا۔ سیف سٹی ہیڈ نے بتایا کہ وہاں کنسٹرکشن کی وجہ سے کیمرے عارضی طورپر ہٹا ئے گئے ہیں۔میں ہدایت کرتی ہوں کہ جہاں بھی کنسٹرکشن کے کام کی وجہ سے کیمرے ہٹانے پڑے ہیں ان کی جگہ عارضی موبائل یا وائرلیس کیمرے لگائے جائیں۔کمشنر، ڈی سی لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے اوریہاں موجود ڈیپار ٹمنٹ ہیڈ مجھے اس بات کا جواب دیں۔ اصولاً کمشنر،ڈی سی لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے کو بھی سزا ملنی چاہیے۔اسسٹنٹ کمشنرجوکہ 2023ء سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، انہیں پتہ ہی نہیں کہ یہاں کنسٹرکشن ہو رہی ہے۔ مین ہول میں گر کر مرنے اور مرڈر میں کوئی فرق نہیں۔ میں پوچھتی ہوں کہ پراجیکٹ مینجر اور دیگر کا کیا کام ہوتا ہے؟ ضلعی انتظامیہ کہیں اور مصروف ہونے کا بہانہ نہیں کرسکتی کیونکہ ہر چیز کا اپنا اپنا نظام ہوتا ہے۔ایک کام کے پیچھے باقی ذمہ داریوں کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔ عوام کی حفاظت اورخدمت بنیادی کام ہے اوراس کے لئے ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کے کیمرے بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چوک سرور شہید کے قریب ٹریفک حادثے میں پانچ بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار ، سوگوار خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ افسوسنانک واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نوازشریف نے مین ہول واقعہ بھاٹی گیٹ ایل ڈی اے کا اظہار سائیٹ پر ہی نہیں کے بعد ہے اور
پڑھیں:
صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
سٹی 42 : صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ کریں گے.
صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف پارٹی رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں بھی کریں گے ۔
میاں نواز شریف گلگت بلتستان میں انتخابات اور عوامی ترقی بارےتبادلہ خیال کریں گے ۔