بھاٹی گیٹ واقعے اور قتل میں فرق نہیں، متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے دلوائے جائیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ، ماں بیٹی کی ہلاکت پر 3 ذمہ داران نامزد، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
مریم نواز نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں اس قسم کا واقعہ ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے متاثرہ فیملی کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دلوایا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندان کو مالی امداد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ داران کے خلاف فوری اور مؤثر قانونی کارروائی ہونا چاہیے تاکہ اس قسم کے افسوسناک واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔