دہشتگردی سے متعلق رپورٹ، 10ماہ میں سب سے زیادہ واقعات کس صوبے میں ہوئے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سال 2024 کے گزشتہ دس ماہ کے دوران ملک میں دہشت گردی کے 1566 واقعات میں 924 افراد شہید اور 2ہزار 121 زخمی ہوئے جبکہ 12 ہزار 801 انٹیلیجنس کارروائیوں میں 341 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی اجلاس میں دہشت گردی کے واقعات سے متعلق رپورٹ پیش کر دی گئی جس کے مطابق سب سے زیادہ واقعات صوبہ خیبر پختونخوا میں رونما ہوئے۔ سال 2024 کے گزشتہ دس ماہ کے دوران ملک میں دہشت گردی کے 1566 واقعات میں 924 افراد شہید اور 2ہزار 121 زخمی ہوئے جبکہ 12 ہزار 801 انٹیلیجنس کارروائیوں میں 341 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ دستاویز کے مطابق دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات 948 خیبر پختونخوا میں ہوئے جبکہ بلوچستان میں 582، سندھ میں 24، پنجاب میں 10 اور اسلام آباد میں 2 واقعات رپورٹ ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گرد واقعات میں کل 583 افراد شہید اور 1375 زخمی ہوئے جن میں 437 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 1059 زخمی ہوئے جبکہ 146 شہری شہید اور 316 زخمی ہوئے۔
گزشتہ دس ماہ کے دوران ملک بھر میں 12801 انٹیلیجنس کارروائیاں کی گئیں جس میں 341 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ دس ماہ میں دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث 800 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ریاست مخالف دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث 400 افراد کو پنجاب، 203 کو خیبر پختونخوا، 173 کو بلوچستان، 21 کو سندھ اور 3 افراد کو گلگت بلتستان سے گرفتار کرکے فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا۔ دہشت گردوں تنظیموں کی مالی معاونت پر 2ہزار 466 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 526 مجرمان کو سی ایف ٹی کے تحت سزا دی گئی۔ دہشت گردوں سے منسلک 58 کروڑ روپے کی رقم وصول ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا دہشت گردی کے زخمی ہوئے ہوئے جبکہ افراد کو شہید اور دس ماہ
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔