ماتلی،گاڑی کھڑی کرنے پر دو فریقین میں تصادم ،3 بھائی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی(نمائندہ جسارت)ماتلی کے علاقے ٹنڈو غلام حیدر تھانے کی حدود دریا خان وڑڑ میں گاڑی کھڑی کرنے کے معاملے پر دو فریقین کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے نتیجے میں تین سگے بھائی لاٹھیوں کے وار سے زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد مقامی اسپتال میں فراہم کرنے کے بعد تشویشناک حالت کے باعث سول اسپتال حیدرآباد منتقل کردیا گیا۔واقعے کے حوالے سے ٹنڈو غلام حیدر تھانے میں ملزمان کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے۔ جھگڑے میں زخمی ہونے والوں میں 15 سالہ علی اکرم وڑڑ، 14 سالہ سجاد اور 11 سالہ علی اختر شامل ہیں۔سول اسپتال حیدرآباد منتقل ہونے سے قبل زخمی بچے اپنے والد علی اکبر وڑڑ کے ہمراہ ماتلی پریس کلب پہنچے جہاں انہوں نے احتجاج کیا۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ان کے پلاٹ پر ملزمان نے قبضہ کر رکھا ہے، اور جب انہوں نے اپنی گاڑی وہاں کھڑی کی تو ملزمان نے منع کیا۔ بات بڑھنے پر ملزمان نے لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے حملہ کرکے بچوں کو شدید زخمی کردیا۔متاثرہ خاندان نے واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔