کولمبیا میں مسافر طیارہ حادثے کا شکار، تمام 15 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولمبیا میں ایک چھوٹا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کولمبیا کے مشرقی پہاڑی علاقوں میں وینزویلا کی سرحد کے نزدیک ایک چھوٹا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام 15 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
عالمی میڈیا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ بیچ کرافٹ 1900 تھا، طیارہ کولمبیا کے شہر کوکوٹا سے روانہ ہو کر اوکانا جا رہا تھا کہ لینڈنگ سے کچھ دیر قبل اس کا ائیر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ رابطہ اچانک منقطع ہو گیا، یہ پرواز بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بج کر پانچ منٹ پر اوکانا میں لینڈ کرنے والی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے سے لینڈنگ سے تقریباً گیارہ منٹ پہلے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر طیارے کے مکمل تباہ ہونے اور عملے سمیت تمام مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق طیارے میں 13 مسافر اور 2 عملے کے ارکان سوار تھے، جن میں کولمبیا کانگریس کے ایک رکن بھی شامل تھے۔ امدادی ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر لاشوں کو نکالنے کے عمل کو مکمل کیا جبکہ علاقے میں شدید پہاڑی اور مشکل حالات کے باعث ریسکیو آپریشن کافی حد تک پیچیدہ رہا۔
ابتدائی تحقیقات میں خراب موسمی حالات کو حادثے کی سب سے ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی جامع اور تفصیلی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی رپورٹ پیش ہونے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات منظرِ عام پر آئیں گی۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔