نئے صوبے کے حامی بھارت واپس چلے جائیں ، عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی نائب صدر ستار رند، مرکزی رہنما لال جروار، جام تماچی اور نور نبی پلیجو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ سندھ امن اور رواداری کی سرزمین ہے۔ جو دہشت گرد سندھ میں نیا صوبہ بنانے کے خواہاں ہیں، وہ واپس بھارت چلے جائیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ ایک ہے، ایک تھا اور ایک ہی رہے گا۔ سندھی قوم اپنی دھرتی کی تقسیم ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے قوم پرامن جمہوری جدوجہد کے دائرے کو مزید وسیع کرے گی۔رہنماؤں نے کہا کہ 12 مئی، 18 اکتوبر، 9 اپریل، 10ویں محرم، 22 مئی، نشتر پارک، عباس ٹاؤن، بلدیہ فیکٹری سمیت دہشت گردی کی لاتعداد خونی کارروائیوں میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والے ایم کیو ایم کے دہشت گرد سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، جنہیں بلاول–شہباز اتحادی حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری سانحے میں سیکڑوں مزدوروں کو زندہ جلانے والے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلانے کے بجائے انہیں وزارتیں دے کر دہشت گردی کے لیے کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔