اترا کھنڈ،کشمیری شال فروشوں پر جنونی ہندوﺅں کا حملہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دہرادون: ہندوتوا کی پیروکار مودی سرکار نے جنونی ہندوﺅں کو باﺅلے کتوں کی طرح ملک بھر میں چھوڑ رکھا ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں کشمیریوں اور مسلمانوں کو کاٹتے پھر رہے ہیں۔
تازہ واقعے میں دہرادون میں کشمیر شال فروخت کرنے والے 2 کشمیری نوجوانوں کو جنونی ہندوﺅں کے جتھوں نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے ، جس کے خلاف مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔متاثرہ کشمیری نوجوان شال بیچنے کے لیے کشمیر سے اتراکھنڈ آئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق 2مسلم کشمیری نوجوان دہرادون کے وکاس نگر بازار میں ڈاک پتھر روڈ پر ایک دکان سے کچھ سامان خریدنے گئے تھے۔ الزام ہے کہ دکان پر موجود لوگوں نے ان کے خلاف مذہبی اور نسلی تبصرے کیے۔
متاثرین کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد انہیں پہلگام دہشت گردانہ حملے سے جوڑتے ہوئے قابل اعتراض تبصرہ کیا گیا اور جب انہوں نے احتجاج کیا تو ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔
جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھویہامی نے کشمیری نوجوانوں پر وحشیانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ”انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ“ قرار دیا ہے۔
سماجی رابطہ گاہ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں ناصر نے کہا کہ متاثرہ نوجوان اپنے اہل خانہ کے ساتھ سردیوں میں شال فروخت کر کے روزی روٹی کما رہا تھا کہ اچانک شرپسند عناصر کے ایک گروہ نے اسے نشانہ بنایا۔
ناصر کھویہامی نے متاثرہ کے رشتہ داروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 18سالہ (متاثرہ) نوجوان سے شناخت پوچھی گئی اور جوں ہی اس نے اپنے مسلم اور وہ بھی کشمیری ہونے کا ذکر کیا تو اس پر مزید تشدد ڈھایا گیا۔
ناصر نے کہا کہ ”نوجوان کو بے رحمی سے مارا پیٹا گیا، لوہے کی سلاخوں سے اس کے سر اور بازو پر وار کیے گئے، جس کے نتیجے میں اس کا بایاں بازو ٹوٹ گیا اور سر پر گہری اور شدید چوٹیں آئیں۔“
ان کے مطابق ”خون میں لت پر نوجوان کو ایک مقامی اسپتال اور بعد ازاں دہرہ دون کے دون اسپتال منتقل کیا گیا۔“
وکاس نگر بازار پولیس اسٹیشن پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ جائے وقوع پر جمع مسلم طبقے کے لوگوں نے زخمی نوجوانوں کو کندھوں پر اٹھا کر پولیس اسٹیشن کا گھیرائو کیا اور ”مسلمانوں پر ظلم بند کرو“ جیسے نعرے لگائے۔
مظاہرین نے الزام لگایا کہ اتراکھنڈ میں مذہب کی بنیاد پر مسلم کمیونٹی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے سخت کارروائی کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم ہوا۔
حملے میں زخمی ہونے والے نوجوانوں کے ایک رشتہ دار عبدالرشید مہیر نے بتایا کہ وہ ہر سال نومبر سے مارچ کے درمیان اتراکھنڈ میں کشمیری کپڑے فروخت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ سال 2008 سے یہاں آ رہے ہیں، جب کہ متاثرین یہاں پہلی بار آئے ہیں۔
الزام ہے کہ متاثرہ نوجوانوں کو مذہب منافرت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور ان پر حملہ کیا گیا۔
متاثرین کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
ایک ملزم سنجے یادو کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وکاس نگر پولیس اسٹیشن کے ایس ایس آئی ششوپال رانا نے بتایا کہ واقعہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ جموں کے رہنے والے دانش اور تابش بدھ کو وکاس نگر مارکیٹ میں کمبل اور سوٹ بیچنے گئے تھے۔
اس دوران وہ ڈاک پتھر کے ایک جنرل اسٹور پر کچھ سامان خریدنے گئے۔ اسی بیچ دکان کے مالک اور کشمیری کاروباریوں میں جھگڑا ہوا جو مار پیٹ کی شکل اختیار کر گیا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کشمیری نوجوان نشانہ بنایا وکاس نگر کیا گیا
پڑھیں:
کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
اسکرین گریب/ ایکسکراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔
سولجر بازار کے علاقے میں پولیس نے کارروائی کرکے موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث خاتون ملزمہ کو گرفتار کیا ہے، پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرکے ملزمہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی ہے، ملزمہ اپنے شوہر کے ہمراہ موٹر سائیکل لفٹنگ کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں میاں بیوی کو موٹر سائیکل لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ملزمہ کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور فرار شوہر کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا مزید تفتیش جاری ہے۔