پی ایس ایل 11: سابق آسٹریلوی کپتان ٹِم پین سیالکوٹ اسٹالینز کے ہیڈ کوچ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سابق آسٹریلوی کپتان ٹم پین کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شامل ہونے والی نئی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا گیا ہے۔
سیالکوٹ اسٹالینز نے پی ایس ایل کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے ٹم پین کی بطور ہیڈ کوچ تقرری کا اعلان اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ “ہمیں فخر ہے کہ ٹم پین کو سیالکوٹ اسٹالینز کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔”
41 سالہ ٹم پین کو کرکٹ کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہوئے 35 ٹیسٹ، 35 ون ڈے اور 12 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے، اور ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 میں شامل ہونے والی دوسری نئی ٹیم حیدرآباد نے سابق آسٹریلوی کرکٹر جیسن گلیسپی کو اپنا ہیڈ کوچ مقرر کیا ہے۔
پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن 26 مارچ سے شروع ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیڈ کوچ مقرر پی ایس ایل ٹم پین
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔