رمضان المبارک: مسجد نبوی میں زائرین کی سہولت کے لیے بڑا اقدام
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
مسجد نبوی ﷺ میں رمضان منصوبے کے تحت کمانڈ اینڈ کنٹرول کے لیے اسمارٹ انجینیئرنگ سینٹر کا افتتاح کر دیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے مسجد نبوی ﷺ میں رمضان منصوبے کے تحت کمانڈ اینڈ کنٹرول کے لیے اسمارٹ انجینیئرنگ سینٹر کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر ادارہ امورحرمین کی جنرل اتھارٹی کے سی ای او انجینیئر غازی بن ظافر الشھرانی و دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اسمارٹ انجینیئرنگ سینٹرکے ذریعے مسجد نبوی ﷺ میں فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار اور کارکردگی کی نگرانی بہتر اور ڈیجیٹل طریقے سے کی جا سکے گی۔
اسمارٹ سسٹم ڈیجیٹل آپریشنل ڈیٹا سے منسلک انٹرایکٹیو اسکرینز سے لنک ہوگا جس کے ذریعے زائرین کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار میں مزید بہتری آئے گی۔
حرمین اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ’اسمارٹ سینٹر کا مقصد جدید اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے زائرین کو خدمات کے حوالے سے منفرد تجربہ فراہم کرنا ہے۔‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مسجد نبوی
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔