یورپی یونین: ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
یورپی یونین نے مظاہرین پرتشدد اور روس کی فوجی حمایت کے الزام میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق برسلز میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ان پابندیوں کے ذریعے کریک ڈاؤن میں ملوث اعلیٰ ایرانی شخصیات اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اجلاس میں ایرانی سپاہ پاسدارانِ انقلاب کو باقاعدہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر بھی سیاسی اتفاق رائے متوقع ہے، جس کے بعد اسے داعش اور القاعدہ کے برابر قرار دے دیا جائے گا۔
یورپی یونین کی ہائی ریپریزنٹیٹو نے اجلاس سے پہلے کہا تھا کہ “اگر آپ دہشت گرد کی طرح کام کرتے ہیں تو آپ کو دہشت گرد کی طرح ٹریٹ کیا جائے گا”۔ انہوں نے IRGC کو دہشت گرد فہرست میں ڈالنے اور ایران کے مخصوص افراد/اداروں پر پابندیوں کی تصدیق کی تھی۔
واضح رہے کہ یہ پابندیاں یورپی یونین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایران پر پہلے سے موجود پابندیوں کا توسیع ہیں، جو 2011 سے نافذ ہیں اور اب تک تجدید ہوتی رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل یورپی یونین
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔