ژوب دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے مرغہ کبزئی زکوزئی میں سیکیورٹی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کیے گئے ایک اہم سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران 29 آئی ای ڈیز، 3 خودکش جیکٹس اور 6 فریما کارڈز (ممکنہ طور پر جعلی یا دھوکہ دہی والے شناخت کارڈز) برآمد کیے گئے ہیں۔
یہ تمام مواد دہشت گردوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری کے لیے جمع کیا گیا تھا، جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔
مزید پڑھیںبنوں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا بنوں میں آپریشن، 3 دہشت گرد ہلاک
پشاور: سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک
یہ کامیاب آپریشن علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی چوکس اور موثر انٹیلی جنس کی بدولت ممکن ہوا، جس سے ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کو روکا گیا ہے۔
برآمد شدہ مواد کی تصدیق اور مزید تفتیش جاری ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک رسائی حاصل کی جا سکے۔سیکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں۔
یہ کارروائی ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ ہے، جو امن و امان کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔