یورپی یونین نے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
یورپی یونین نے کے وزرائے خرجہ کے ایک اہم اجلاس میں ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر اصولی اتفاق کرلیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ اس معاملے میں فیصلہ کن پیش رفت ہوچکی ہے۔
اُن کے بقول جو ریاست اپنے شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر طاقت استعمال کرے اسے عالمی سطح پر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک قانونی اور تکنیکی مراحل مکمل کرکے اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔
جس کے تحت پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ اثاثوں، مالی سرگرمیوں اور سفری معاملات پر سخت پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کی پیروی کے مترادف ہے۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ یورپ اس فیصلے کے ذریعے سنگین غلطی کا ارتکاب کر رہا ہے جس کے خطے اور دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یورپی یونین
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔