ایران کا یورپی یونین کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے اقدام پر سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران نے یورپی یونین کے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی وزرائے خارجہ نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔
ای یو کی خارجہ پالیسی چیف کایا کالاس نے کہا کہ جبر کو جوابدہ کیے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا جو حکومت اپنے ہزاروں شہریوں کو قتل کرتی ہے، وہ اپنی تباہی کی طرف بڑھتی ہے۔
اس فیصلے پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ یورپ نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر ایک بڑی اسٹریٹیجک غلطی کی ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے اقدام کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل کی غیر انسانی پالیسیوں کی اندھی تابعداری پر مبنی ہے۔
ایرانی فوج نے بھی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کا یہ غیر منطقی اقدام خطے میں کشیدگی میں اضافہ کرے گا اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے کے نتائج کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اس کے خلاف مناسب ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین کو دہشت گرد کہا کہ
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔