ڈھاکہ میں سفارتی سرگرمیاں تیز، امیرِ جماعتِ اسلامی سے یورپی و امریکی سفیروں کا تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں یورپی یونین اور امریکا کے سفیروں نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں جمہوری عمل، سیاسی و معاشی صورتحال، انتخابات، ریاستی اصلاحات اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جمعرات، 29 جنوری کو یورپی یونین کے بنگلہ دیش میں تعینات سفیر مائیکل ملر نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ان کے بشن دھارا میں واقع دفتر میں خیرسگالی ملاقات کی۔
یورپی سفیر کے ہمراہ پولیٹیکل فرسٹ سیکریٹری سباسٹین ریگر براؤن بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران بنگلہ دیش اور یورپی یونین کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات اور جمہوریت کو بامقصد بنانے کے موضوعات کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
دونوں فریقین نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں باہمی تعلقات، ترقی اور پیش رفت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔
اس موقع پر جماعتِ اسلامی کی جانب سے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور مرکزی شعبہ تشہیر و میڈیا کے سربراہ ایڈووکیٹ احسن الحق محبوب زبیر اور امیرِ جماعت کے مشیرِ خارجہ امور پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن چوہدری بھی موجود تھے۔
اسی روز امریکا کے سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے بھی جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ان کے بشن دھارا دفتر میں خیرسگالی ملاقات کی۔
امریکی سفیر کے ہمراہ پولیٹیکل و اکنامک کونسلر ایرک گل مین، پبلک آفیسر مونیکا ایل تسائی، پولیٹیکل آفیسر جیمز اسٹیورٹ اور پولیٹیکل اسپیشلسٹ فیروز احمد بھی شریک تھے۔
سیاسی، معاشی اور روہنگیا مسئلے پر تبادلہ خیالملاقات کے دوران بنگلہ دیش کی سیاسی و معاشی صورتحال، صنعت و تجارت، آئندہ عام انتخابات، ریاستی اصلاحات اور روہنگیا بحران سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
سفیر برینٹ کرسٹینسن نے بنگلہ دیش کی معاشی ترقی اور جمہوری پیش رفت میں جماعتِ اسلامی کے مثبت کردار کو سراہا۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں بنگلہ دیش اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
جماعتِ اسلامی کی جانب سے ایڈووکیٹ احسن الحق محبوب زبیر، مرکزی ایگزیکٹو کونسل کے رکن مبارک حسین اور مشیرِ خارجہ امور پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن بھی ملاقات میں موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دوطرفہ تعلقات تبادلہ خیال بنگلہ دیش
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔