ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، چین نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی دھمکیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ایران نے بھی کسی بھی حملے کا جواب دینے کا عہد کیا ہے، ایسے میں چین نے مشرق وسطیٰ میں فوجی مہم جوئی کے خلاف خبردار کیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو چونگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ طاقت کا استعمال مسائل حل نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی فوجی مہم جوئی خطے کو نامعلوم نتائج کی گہرائیوں میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں کرے گی۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے اعلان کیا کہ امریکی حملے کی صورت میں تہران کا ردعمل بے مثال ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق یہ بیان امریکی صدر کے اس انتباہ کے فوراً بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے۔
ایرانی مشن نے ”ایکس“پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران احترام اور باہمی مفادات پر مبنی مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اگر اسے دباؤ کا نشانہ بنایا گیا تو وہ اپنا دفاع کرے گا اور بے مثال جواب دے گا۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے اور جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ایک معاہدہ کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اگلا امریکی حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
گزشتہ روز ایرانی سرکاری میڈیا نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے سے بتایا تھا کہ انہوں نے گزشتہ چند دنوں میں امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی مذاکرات کی درخواست کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔