WE News:
2026-07-24@02:15:14 GMT

برطانیہ: جنسی جرائم اور ڈکیتی کے کیسز میں تاریخی اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

برطانیہ میں جنسی جرائم کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے ملکی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق نہ صرف جنسی زیادتی، بلکہ منشیات اور چوری کے جرائم میں بھی قابلِ ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

جنسی جرائم میں اضافہ

برطانوی دفتر برائے قومی شماریات (ONS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ستمبر تک 2 لاکھ 14 ہزار 816 جنسی جرائم کے کیسز ریکارڈ کیے گئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ اوسطاً تقریباً 588 جنسی جرائم رپورٹ ہو رہے ہیں۔

Sex crimes soar to record levels with average of 588 every day, while drug offences and shoplifting continue to rise in new official stats https://t.

co/g0ihCYn3BQ

— Daily Mail (@DailyMail) January 29, 2026

جنسی زیادتی کے کیسز کی صورتحال

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس سال 74 ہزار سے زائد جنسی زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جو روزانہ تقریباً 6 سو واقعات کے برابر ہیں۔ موازنہ کے طور پر، سال 2003 میں یہ تعداد 57 ہزار تھی۔

منشیات اور چوری کے جرائم

منشیات سے متعلق جرائم میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کے کیسز میں 38 فیصد اضافہ کے ساتھ 75 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ منشیات رکھنے کے جرائم میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں تقریبا 1.5 لاکھ کیسز سامنے آئے ہیں۔ چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں بھی بڑھیں؛ سال میں تقریباً 83 ہزار ڈکیتی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:برطانیہ: جنسی جرائم پر سزا پانے والوں میں بھارتی شہری سب سے آگے، رپورٹ میں انکشاف

ماہرین کی تشویش

برطانوی میڈیا نے ONS کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں منشیات فروشی اور دکانوں سے چوری کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی جرائم میں اضافہ، منشیات کے جرائم اور چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات برطانیہ میں سماجی اور اقتصادی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں، اور اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جنسی زیادتی کے کیسز میں کے جرائم چوری کے گیا ہے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق