Express News:
2026-07-24@07:51:17 GMT

افغانستان: منشیات اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی برادری کے لیے محض ایک داخلی بحران کا شکار ملک نہیں رہا بلکہ یہ بتدریج منشیات اور دہشت گردی کے ایسے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے جو اپنی سرحدوں سے باہر عدم استحکام برآمد کر رہا ہے۔ یہاں دہشت گرد نیٹ ورکس، منظم جرائم اور غیر قانونی منشیات کی معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، جن کی بدولت تشدد، انتہاپسندی اور جرائم کو مالی وسائل میسر آتے ہیں۔ 2025 کی ترک منشیات رپورٹ نے اس تلخ حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ افغانستان نہ صرف افیونی منشیات بلکہ خطرناک مصنوعی نشہ آور اشیاء کی عالمی سپلائی چین کا ایک مرکزی ستون بن چکا ہے، جو علاقائی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

ترک منشیات رپورٹ 2025 غیر قانونی منشیات کی منڈی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں روایتی نباتاتی منشیات کے ساتھ ساتھ مصنوعی منشیات اور نئی نفسیاتی اثر رکھنے والی اشیاء (NPS) تیزی سے فروغ پا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ترکی ہیروئن کی اسمگلنگ کے لیے بلقان روٹ پر ایک اہم پل ہے، جب کہ کوکین اور میتھ ایمفیٹامین کی یورپی منڈیوں تک رسائی میں بھی اس کا کردار بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس پورے نیٹ ورک کا اصل سرچشمہ بدستور افغانستان ہی ہے، جہاں سے یہ زہریلا کاروبار خطے اور دنیا بھر میں پھیلتا ہے۔

رپورٹ افغانستان کو طالبان کی جانب سے 2022 میں پوست کی کاشت اور منشیات پر پابندی کے باوجود ہیروئن اور افیونی منشیات کے بڑے عالمی ذرائع میں شمار کرتی ہے۔ اگرچہ 2023 میں افیون کی پیداوار میں بظاہر 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، لیکن یہ کمی مستقل ثابت نہ ہو سکی۔ 2024 میں پوست کی کاشت میں 19 فیصد اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پابندی کا مقصد منشیات کا خاتمہ نہیں بلکہ منڈی کو کنٹرول کرنا تھا۔ اس دوران میانمار (برما) عارضی طور پر سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک ضرور بنا، مگر افغانستان کی گرفت کمزور نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کا منشیات سے متعلق انفراسٹرکچر ختم نہیں ہوا بلکہ مزید منظم ہو گیا۔

دہائیوں کے دوران قائم ہونے والے کاشت، پراسیسنگ، ذخیرہ اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس بدستور فعال رہے۔ اپریل 2022 میں پوست پر پابندی کا مقصد عالمی منڈی میں اضافی ذخائر کو قابو میں لانا اور قیمتوں کو مستحکم کرنا تھا، نہ کہ اسمگلنگ کے نظام کو توڑنا۔ طالبان نے ذخیرہ شدہ افیون کی فروخت کے لیے وقت دے کر ان عناصر کو فائدہ پہنچایا جو منشیات کی ترسیل اور ذخائر پر قابض تھے۔اس پالیسی کے نتیجے میں افیون اور ہیروئن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ 2022 میں خشک افیون کی قیمت 110 ڈالر تھی جو 2024 میں بڑھ کر 780 ڈالر تک جا پہنچی۔ اس مصنوعی قلت نے منڈی کی طاقت کاشت کاروں سے چھین کر اسمگلرز اور ذخیرہ کرنے والے نیٹ ورکس کے ہاتھ میں دے دی۔ یوں منشیات کی معیشت کمزور ہونے کے بجائے مزید منافع بخش بن گئی۔

اسی دوران افغانستان نے تیزی سے مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین، کی طرف رخ کیا۔ خطے میں پائے جانے والے ایفیڈرا پودے سے ایفیڈرین حاصل کر کے بڑے پیمانے پر مصنوعی منشیات تیار کی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی نگرانی کے اداروں کے مطابق پوست پر پابندی نے میتھ ایمفیٹامین کی تجارت کو روکنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا۔ یورپ، مشرقی افریقہ اور ہمسایہ ممالک میں افغان ساختہ مصنوعی منشیات کی ضبطگی میں نمایاں اضافہ اس خطرناک رجحان کی واضح علامت ہے۔

مصنوعی منشیات کی پیداوار زرعی موسم سے آزاد، کم حجم میں زیادہ منافع بخش اور ذخیرہ و اسمگلنگ کے لیے موزوں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے زیادہ چیلنج بن چکی ہیں۔ افغانستان نہ صرف ان منشیات کی تیاری بلکہ ان میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزاء کی سپلائی چین میں بھی اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے، جس سے اس کا اثر سرحدوں سے باہر تک پھیل جاتا ہے۔ان تمام حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان ایک پیچیدہ نارکو اسٹیٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں منشیات دہشت گردی، جرائم اور عدم استحکام کو ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔ طالبان کی حکمرانی میں منشیات کی معیشت ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئے، زیادہ منظم اور خطرناک انداز میں دوبارہ ترتیب دی گئی ہے۔ منظم قلت، غیر یکساں نفاذ، ذخائر پر کنٹرول اور مصنوعی منشیات میں تنوع کے ذریعے افغانستان آج بھی عالمی منشیات کی رسد اور قیمتوں کو متاثر کر رہا ہے، اور دنیا کے لیے ایک مستقل اور سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔

یوں افغانستان آج ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں منشیات، دہشت گردی اور منظم جرائم ایک ہی زنجیر کی کڑیاں بن چکی ہیں۔ طالبان کی جانب سے منشیات کے خلاف اقدامات کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ عملی طور پر افغانستان عالمی منشیات کی منڈی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ افیون، ہیروئن اور مصنوعی منشیات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی نہ صرف غیر قانونی معیشت کو سہارا دے رہی ہے بلکہ دہشت گرد نیٹ ورکس اور علاقائی عدم استحکام کو بھی تقویت دے رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مصنوعی منشیات اسمگلنگ کے منشیات کی منشیات کے نیٹ ورکس کے لیے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار