Express News:
2026-06-03@01:28:23 GMT

افغانستان: منشیات اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی برادری کے لیے محض ایک داخلی بحران کا شکار ملک نہیں رہا بلکہ یہ بتدریج منشیات اور دہشت گردی کے ایسے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے جو اپنی سرحدوں سے باہر عدم استحکام برآمد کر رہا ہے۔ یہاں دہشت گرد نیٹ ورکس، منظم جرائم اور غیر قانونی منشیات کی معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، جن کی بدولت تشدد، انتہاپسندی اور جرائم کو مالی وسائل میسر آتے ہیں۔ 2025 کی ترک منشیات رپورٹ نے اس تلخ حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ افغانستان نہ صرف افیونی منشیات بلکہ خطرناک مصنوعی نشہ آور اشیاء کی عالمی سپلائی چین کا ایک مرکزی ستون بن چکا ہے، جو علاقائی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

ترک منشیات رپورٹ 2025 غیر قانونی منشیات کی منڈی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں روایتی نباتاتی منشیات کے ساتھ ساتھ مصنوعی منشیات اور نئی نفسیاتی اثر رکھنے والی اشیاء (NPS) تیزی سے فروغ پا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ترکی ہیروئن کی اسمگلنگ کے لیے بلقان روٹ پر ایک اہم پل ہے، جب کہ کوکین اور میتھ ایمفیٹامین کی یورپی منڈیوں تک رسائی میں بھی اس کا کردار بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس پورے نیٹ ورک کا اصل سرچشمہ بدستور افغانستان ہی ہے، جہاں سے یہ زہریلا کاروبار خطے اور دنیا بھر میں پھیلتا ہے۔

رپورٹ افغانستان کو طالبان کی جانب سے 2022 میں پوست کی کاشت اور منشیات پر پابندی کے باوجود ہیروئن اور افیونی منشیات کے بڑے عالمی ذرائع میں شمار کرتی ہے۔ اگرچہ 2023 میں افیون کی پیداوار میں بظاہر 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، لیکن یہ کمی مستقل ثابت نہ ہو سکی۔ 2024 میں پوست کی کاشت میں 19 فیصد اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پابندی کا مقصد منشیات کا خاتمہ نہیں بلکہ منڈی کو کنٹرول کرنا تھا۔ اس دوران میانمار (برما) عارضی طور پر سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک ضرور بنا، مگر افغانستان کی گرفت کمزور نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کا منشیات سے متعلق انفراسٹرکچر ختم نہیں ہوا بلکہ مزید منظم ہو گیا۔

دہائیوں کے دوران قائم ہونے والے کاشت، پراسیسنگ، ذخیرہ اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس بدستور فعال رہے۔ اپریل 2022 میں پوست پر پابندی کا مقصد عالمی منڈی میں اضافی ذخائر کو قابو میں لانا اور قیمتوں کو مستحکم کرنا تھا، نہ کہ اسمگلنگ کے نظام کو توڑنا۔ طالبان نے ذخیرہ شدہ افیون کی فروخت کے لیے وقت دے کر ان عناصر کو فائدہ پہنچایا جو منشیات کی ترسیل اور ذخائر پر قابض تھے۔اس پالیسی کے نتیجے میں افیون اور ہیروئن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ 2022 میں خشک افیون کی قیمت 110 ڈالر تھی جو 2024 میں بڑھ کر 780 ڈالر تک جا پہنچی۔ اس مصنوعی قلت نے منڈی کی طاقت کاشت کاروں سے چھین کر اسمگلرز اور ذخیرہ کرنے والے نیٹ ورکس کے ہاتھ میں دے دی۔ یوں منشیات کی معیشت کمزور ہونے کے بجائے مزید منافع بخش بن گئی۔

اسی دوران افغانستان نے تیزی سے مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین، کی طرف رخ کیا۔ خطے میں پائے جانے والے ایفیڈرا پودے سے ایفیڈرین حاصل کر کے بڑے پیمانے پر مصنوعی منشیات تیار کی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی نگرانی کے اداروں کے مطابق پوست پر پابندی نے میتھ ایمفیٹامین کی تجارت کو روکنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا۔ یورپ، مشرقی افریقہ اور ہمسایہ ممالک میں افغان ساختہ مصنوعی منشیات کی ضبطگی میں نمایاں اضافہ اس خطرناک رجحان کی واضح علامت ہے۔

مصنوعی منشیات کی پیداوار زرعی موسم سے آزاد، کم حجم میں زیادہ منافع بخش اور ذخیرہ و اسمگلنگ کے لیے موزوں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے زیادہ چیلنج بن چکی ہیں۔ افغانستان نہ صرف ان منشیات کی تیاری بلکہ ان میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزاء کی سپلائی چین میں بھی اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے، جس سے اس کا اثر سرحدوں سے باہر تک پھیل جاتا ہے۔ان تمام حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان ایک پیچیدہ نارکو اسٹیٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں منشیات دہشت گردی، جرائم اور عدم استحکام کو ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔ طالبان کی حکمرانی میں منشیات کی معیشت ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئے، زیادہ منظم اور خطرناک انداز میں دوبارہ ترتیب دی گئی ہے۔ منظم قلت، غیر یکساں نفاذ، ذخائر پر کنٹرول اور مصنوعی منشیات میں تنوع کے ذریعے افغانستان آج بھی عالمی منشیات کی رسد اور قیمتوں کو متاثر کر رہا ہے، اور دنیا کے لیے ایک مستقل اور سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔

یوں افغانستان آج ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں منشیات، دہشت گردی اور منظم جرائم ایک ہی زنجیر کی کڑیاں بن چکی ہیں۔ طالبان کی جانب سے منشیات کے خلاف اقدامات کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ عملی طور پر افغانستان عالمی منشیات کی منڈی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ افیون، ہیروئن اور مصنوعی منشیات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی نہ صرف غیر قانونی معیشت کو سہارا دے رہی ہے بلکہ دہشت گرد نیٹ ورکس اور علاقائی عدم استحکام کو بھی تقویت دے رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مصنوعی منشیات اسمگلنگ کے منشیات کی منشیات کے نیٹ ورکس کے لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی