تھانہ پاکستان بازار چھالیہ اسمگلروں، منشیات فروشوں کا حب بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پولیسکی ملی بھگت سے کروڑوں کی چھالیہ بلوچستان سے اسمگلنگ کے بعد رہائشی آبادیوں میں ڈمپ ہونے لگی
معطل پولیس اہلکار سیف الرحمان، عباس عرف شیرازی، رفیق اللہ خان عرف تیمور موٹا، سہیل رانا ملوث نکلے
(رپورٹ؍ ایم جے کے)ڈسٹرکٹ ویسٹ اورنگی ٹاؤن’ تھانہ پاکستان بازار چھالیہ اسمگلروں اور منشیات فروشوں کا حب بن گیا۔ تھانہ ذرائع کے مطابق پاکستان بازار پولیس کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے مالیت کا چھالیہ اور اسکی آڑ میں آئس، کرسٹال اور چرس بلوچستان سے اسمگلنگ ہونے کے بعد رہائشی آبادیوں میں ڈمپ کی جانے لگی، ضلع ویسٹ اورنگی ٹاؤن تھانوں کی سرپرستی میں یومیہ لاکھوں روپے کا اسمگلنگ شدہ چھالیہ گٹکا ماوا مافیا کو با آسانی سپلائی اور فروخت کی جاتی ہیں، جبکہ متعلقہ تھانہ پاکستان بازار نے لاکھوں روپے رشوت کے عوض 6 سے زائد چھالیہ اسمگلروں کو کُھلی چھوٹ فراہم کی ہوئی ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان بازار میں اسمگل شدہ چھالیہ اور منشیات کا اہم ڈیلر عباس عرف شیرازی اور رفیق اللہ خان عرف تیمور موٹا نے مائی گاڑی چوکی اور پاکستان بازار تھانہ کی لائن 4 لاکھ 70 ہزار روپے ہفتہ میں حاصل کی ہوئی ہے، جبکہ اطلاعات یہ بھی ہے کہ 1 لاکھ 70 ہزار منگھوپیر مائی گاڑی چوکی انچارج ہیڈ کانسٹیبل الطاف دستی اور 3 لاکھ پاکستان بازار تھانہ کے ایس ایچ او امام بخش لاشاری کے خاص بیٹر معطل پولیس کانسٹیبل سیف الرحمن کو بھتہ دیا جاتا ہے، ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ عباس عرف شیرازی اور رفیق اللہ خان عرف تیمور موٹا کا مال مائی گاڑی چوکی انچارج الطاف دستی کی ملی بھگت سے سکران کے کچے راستے سے ہوتے ہوئے صبح سورج نکلنے سے پہلے ندی پار کر کے مائی گاڑی چوکی کی حدود الطاف نگر مین روڈ سے اسمگلنگ کا مال پاکستان بازار تھانہ کے علاقے میں داخل ہوتا ہے، داخل ہونے کے بعد پاکستان بازار تھانے کے علاقوں میں چھوٹے اسمگلروں کو مضر صحت چھالیہ اور دیگر منشیات بتائے گئے ایڈریس پر پہنچائی جاتی ہیں، چھوٹے اسمگلروں میں سر فہرست اصغر عرف دادو، آفاق، دانش عرف گنجا، سہیل رانا شامل ہیں، اصغر عرف دادو کا روز مرہ کی بنیاد پر 1 ہزار کلو چھالیہ اُترتی ہے، رفیق اللہ عرف تیمور نے پاکستان بازار تھانہ کے اطراف گلی نمبر 9 میں اپنا ڈمپنگ پوائنٹ بنایا ہوا ہے جبکہ سہیل رانا کی کھیپ بھی روزانہ کی بنیاد پر 1 ہزار کلو سے زائد ہے جو اسکے گھر پر اُترتی ہے، سہیل رانا کا گھر گلشن بہار ارکانیہ قبرستان کے اطراف میں ہے، جبکہ 5 سو اور 6 سو کلو اسمگل چھالیہ منگوانے والوں میں مدثر، سمیع اللہ خان عرف راجو، فیضان، نعیم عرف کالا، نوید عرف ڈھانڈی، عباس پیٹرول والا شامل ہیں، پاکستان بازار کے ان چھوٹے اسمگلروں سے ایس ایچ او کا دست راز معطل پولیس کانسٹیبل سیف الرحمن فی اسمگلر سے 50 ہزار روپے باقاعدگی سے وصول کرتا ہے، باقاعدگی سے ہفتہ دینے کی وجہ سے مضرت صحت گٹکا ماوا میں استعمال ہونے والا مضر صحت چھالیہ کی بڑی کھپت اور سپلائی کا کاروبار دھواں دھار طریقے سے چلنے لگی ہے، چھالیہ کی مارکیٹ میں عباس عرف شیرازی، خالد عرف کیلا، رفیق اللہ خان عرف تیمور موٹا کا نام صف اول دیکھا جانے لگا، رفیق اللہ عرف تیمور پاکستان رینجرز سندھ سابقہ آپریشن کمانڈر ڈسٹرکٹ ویسٹ ڈی ایس آر دلاور کے ہاتھوں گرفتار بھی ہو چکا ہے، ضلع ویسٹ اورنگی ٹاؤن کی حدود میں مختلف علاقوں میں اسمگل چھالیہ بائک رائڈرز کے ذریعے سپلائی کی جاتی ہے، جبکہ ایس ایچ او امام بخش لاشاری کا خاص کارندہ معطل پولیس کانسٹیبل سیف الرحمن کی سرپرستی میں علاقہ پاکستان بازار کو مین گڑھ بنا دیا گیا ہے جس سے علاقہ مکین بہت پریشان ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان بازار تھانہ معطل پولیس سہیل رانا چھالیہ ا
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔