بنگلہ دیش کو 2026 کے لیے اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ کمیشن (PBC) کا وائس چیئر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن عالمی سطح پر تنازعہ زدہ ممالک میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنے والا ایک بین الحکومتی مشاورتی ادارہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فضائی رابطے بحال، بیمان ایئرلائن کی پرواز کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کرگئی

نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں جمعرات کو منعقدہ کمیشن کے اجلاس میں پانچ رکنی بیورو کا انتخاب کیا گیا۔ اجلاس میں مراکش کو چیئر منتخب کیا گیا جبکہ جرمنی، برازیل، کروشیا اور بنگلہ دیش کو وائس چیئر کے عہدوں پر منتخب کیا گیا۔

At the PBC organizational meeting, Amb.

@LokThapa2071 congratulated Morocco as the new Chair of the PBC, and Bangladesh, Croatia, Brazil, and Germany on their election as Vice-Chairs.

Amb. Thapa emphasized that investment in development is an investment in peace; reaffirmed the… pic.twitter.com/s3u7fqQLuU

— Nepal Mission to the UN (@NepalUNNY) January 30, 2026

پیسیبلڈنگ کمیشن میں 31 رکن ممالک شامل ہیں جو جنرل اسمبلی، سیکیورٹی کونسل، اکنامک اینڈ سوشل کونسل اور اقوامِ متحدہ کے فوجی و مالیاتی معاون ممالک میں سے منتخب ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش کمیشن کا رکن 2005 سے ہے اور اس نے پہلے 2012 میں چیئر اور 2013 اور 2023 میں وائس چیئر کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔

بنگلہ دیش نے جمعہ کو 20 ویں اجلاس کے پہلے سیشن میں وائس چیئر کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالا۔ اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی کے صدر اور چیف ڈی کیبینٹ موجود تھے، جنہوں نے کمیشن کے کردار اور اہمیت پر زور دیا۔

بنگلہ دیش کی نمائندگی نے کمیشن کے دیگر اراکین کا شکریہ ادا کیا اور امن قائم کرنے کی عالمی کوششوں میں بنگلہ دیش کی وابستگی اور مستقبل کے عملی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش یو این پیس کمیشن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ بنگلہ دیش یو این پیس کمیشن وائس چیئر بنگلہ دیش متحدہ کے کیا گیا

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی