بار بار سانحات کی بڑی وجہ، غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف فوجداری قوانین پر عمل نہ ہونا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے قوانین واضح طور پر اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے جن کی غفلت یا فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کے نتیجے میں انسانی جان یا املاک کا نقصان ہو۔
اس کے باوجود عملی طور پر ان قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی اور لاہور میں مین ہول جیسے سنگین واقعات بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان پینل کوڈ اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت کسی بھی سرکاری ملازم کو اس صورت میں استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا جب اس کی غفلت یا لاپرواہی کے باعث اموات واقع ہوں یا املاک کو نقصان پہنچے۔ تعزیراتِ پاکستان کے تحت جلد بازی یا غفلت سے کسی کی موت واقع ہونا قابلِ سزا جرم ہے، جس کی سزا قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قانونی دفعات نجی افراد کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتی ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق جہاں مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں انسانی جان ضائع ہو، وہاں قانون نجی فرد اور سرکاری افسر میں کوئی فرق نہیں کرتا، تاہم بدقسمتی سے ایسے قوانین شاذ و نادر ہی نافذ کیے جاتے ہیں اور اکثر معاملات میں ذمہ دار افسران کو صرف انتظامی انکوائری تک محدود رکھا جاتا ہے۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کرے یا کسی غیر قانونی عمل میں سہولت فراہم کرے، اور اس کے نتیجے میں نقصان یا موت واقع ہو، تو اس صورت میں بھی تعزیراتِ پاکستان کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت تمام سرکاری ملازمین ملک کے قوانین کے پابند ہیں اور محکمانہ کارروائی کسی بھی صورت فوجداری کارروائی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
اسی طرح گورنمنٹ سرونٹس کنڈکٹ رولز 1964 کے مطابق ہر سرکاری ملازم پر لازم ہے کہ وہ دیانت داری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرے اور کوئی ایسا اقدام نہ کرے جو اس کے منصب کے منافی ہو۔ عمارتوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی، خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنا یا غیر محفوظ استعمال کی اجازت دینا نہ صرف بدانتظامی بلکہ فوجداری جرم بھی بن سکتا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ محکمانہ کارروائی اور فوجداری مقدمہ دو الگ عمل ہیں اور دونوں بیک وقت چل سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ بھی اپنے متعدد فیصلوں میں یہ قرار دے چکی ہے کہ جہاں فوجداری جرم کا پہلو موجود ہو وہاں تادیبی کارروائی فوجداری مقدمے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
اس تناظر میں معائنہ، منظوری، تجدید یا عملدرآمد کے ذمہ دار افسران تحقیقات کی روشنی میں بیک وقت معطلی، برطرفی اور فوجداری مقدمے کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق گل پلازہ کی عمارت میں فائر ایگزٹس، الارم سسٹم اور ہنگامی تیاری کے بنیادی انتظامات موجود نہیں تھے جو بلدیاتی قوانین اور بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ذرائع کے مطابق ان تقاضوں پر عملدرآمد میں ناکامی، خاص طور پر اس صورت میں جب بار بار معائنوں یا عوامی شکایات کو نظر انداز کیا گیا ہو، مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ اسی طرح لاہور کے مین ہول کے واقعے کو بھی مجرمانہ غفلت کا کیس قرار دیا جا رہا ہے جس میں فوجداری اور انتظامی دونوں سطح پر کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔