قائمہ کمیٹی کی سرکاری اداروں کو کم از کم ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیوں نے سرکاری اداروں میں ملازمین کو کم از کم ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔
چیئرپرسن نزہت صادق کی زیر صدارت اجلاس میں مختلف سرکاری اداروں میں کم از کم اجرت کی ادائیگی پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے نشاندہی کی کہ کئی ادارے اب بھی ملازمین کو کم از کم ماہانہ اجرت ادا نہیں کر رہے۔ رکن اسمبلی نتاشہ دولتانہ نے کہا کہ سرکاری اداروں میں فرائض انجام دینے والے سیکیورٹی گارڈز کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تنخواہ نہیں دی جاتی۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
آغا رفیع اللہ نے تجویز دی کہ سیکیورٹی گارڈز کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے ہونی چاہیے اور بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ سیکرٹری داخلہ کے سامنے بھی اٹھایا ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے واضح کیا کہ تمام اداروں میں کم از کم تنخواہ کی ادائیگی پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے، جس پر قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ تمام سرکاری ادارے کم از کم ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں قومی شاہراہوں پر اشیائے ضروریہ کی زائد قیمتوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ قیمتوں کی مسلسل جانچ پڑتال کے دوران سروس ایریاز اور ریسٹ ایریاز کے 16 کنٹریکٹس معطل کیے جا چکے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے تھرڈ پارٹی کے ذریعے بھی جانچ پڑتال کا نظام متعارف کرایا جائے۔
ہزارہ ایکسپریس کی 2بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کم از کم ماہانہ تنخواہ تنخواہ کی ادائیگی سرکاری اداروں قائمہ کمیٹی
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔