وہ ’بڑے بچے‘ کہ جن کو بغیر وجہ بتائے چھٹی بھی مل جاتی ہے اور پوری تنخواہ بھی!
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے قومی اسمبلی میں اراکین پارلیمنٹ کی چھٹیوں کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں یہ رواج بن چکا ہے کہ بغیر کسی معقول وجہ کے اراکین کی چھٹیوں کی درخواستیں منظور کر لی جاتی ہیں حالانکہ اسکول جانے والے بچے بھی چھٹی کی درخواست میں کوئی نہ کوئی وجہ ضرور لکھتے ہیں لیکن یہاں بغیر وجہ درخواست دی جاتی ہے اور منظور بھی ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کی پیشکش نہیں ہوئی، بیرسٹر گوہر نے سوشل میڈیا پر گردش خبروں کی تردید کردی
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی چھٹیاں خودکار طریقے سے منظور کی جاتی ہیں اور اعلان ہوتا ہے کہ فلاں رکن کی ’ رخصت منظور‘ جس کے بعد متعلقہ رکن کو مکمل تنخواہ اور دیگر مراعات بھی ملتی رہتی ہیں۔ اس موقعے پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے جواب دیا کہ ’یہ بڑے بچے ہیں‘۔
بیرسٹر گوہر خان نے ایوان کو بتایا کہ انہوں نے اخبارات میں پڑھا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی ایک بورڈ میٹنگ میں شرکت پر 8 ہزار ڈالر تک فیس دی جاتی ہے جبکہ ان کے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک رکن پارلیمنٹ کو 90 لاکھ روپے تنخواہ اور 21 لاکھ روپے کے واؤچرز دیے گئے حالانکہ پارلیمنٹ میں عملی طور پر کام کا دورانیہ محض آدھے گھنٹے تک محدود رہتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بھارت ہمارا دشمن ملک ہے لیکن وہاں آئینی طور پر یہ شرط موجود ہے کہ سال میں کم از کم 140 دن پارلیمنٹ کی کارروائی ہو اور ہر دن 6 گھنٹے اجلاس میں شرکت کے بعد ہی رکن کو تنخواہ کا حق ملتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے اس پوائنٹ آف آرڈر پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں سے گزارش کریں گے کہ وہ اپنے 2،2 سینیئر اراکین نامزد کریں تاکہ مشترکہ طور پر یہ طے کیا جا سکے کہ پارلیمنٹ کی کارکردگی کو مزید مؤثر اور بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
چھٹیوں سے متعلق سرکاری اعداد و شمار
وی نیوز کو دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق قومی اسمبلی کے گزشتہ 4 اجلاسوں کے دوران مجموعی طور پر 362 اراکین کی چھٹیوں کی درخواستیں منظور کی گئیں جبکہ حیران کن طور پر اس عرصے میں کسی ایک رکن کی بھی چھٹی کی درخواست مسترد نہیں کی گئی۔ متعدد اراکین کو مکمل اجلاس کی چھٹی دی گئی۔
قومی اسمبلی کے 23ویں اجلاس میں مجموعی طور پر 92 اراکین کی چھٹیوں کی درخواستیں منظور کی گئیں جن میں13 جنوری کو (سب سے زیادہ) 51، 16 جنوری کو 28 جبکہ 19 جنوری کو 13 اراکین کی چھٹیاں منظور ہوئیں۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس میں آپس میں الجھ پڑے، بیرسٹر گوہر کو بھی نہ بخشا
اسی طرح قومی اسمبلی کے 22ویں اجلاس میں مجموعی طور پر 97 اراکین کی چھٹیوں کی درخواستیں منظور کی گئیں جن میں8 دسمبر کو 49،2 دسمبر کو 13، یکم دسمبر کو 14، 28 نومبر کو 9 اور27 نومبر کو 12 اراکین کی چھٹیاں منظور ہوئیں۔
قومی اسمبلی کے 21 ویں اجلاس میں مجموعی طور پر 58 اراکین کی چھٹیاں منظور ہوئیں جن میں سب سے زیادہ 7 نومبر کو 12 اراکین غیر حاضر رہے۔
20 ویں اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 115 چھٹیوں کی درخواستیں منظور کی گئیں جن میں9 اکتوبر کو 48 اور3 اکتوبر کو 22 اراکین کی درخواستیں شامل تھیں۔
فافن کی رپورٹ میں حاضری سے متعلق انکشافاتآزاد ادارہ فافن وقتاً فوقتاً پارلیمنٹ کی کارروائیوں پر اپنی رپورٹ جاری کرتا رہتا ہے۔ اس کی رپورٹ کے مطابق موجودہ 16ویں قومی اسمبلی کے اب تک 23 اجلاس ہو چکے ہیں۔
فافن کے مطابق قومی اسمبلی کے 22ویں اجلاس میں صرف 34 اراکین ایسے تھے جو 7ویں دن اجلاس میں شریک رہے جبکہ 50 اراکین ایسے تھے جنہوں نے 7 دن جاری اجلاس میں ایک دن بھی شرکت نہیں کی۔ اسی سیشن میں 299 اراکین کم از کم ایک دن غیر حاضر رہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ہے یا نہیں؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا
اسی طرح قومی اسمبلی کے 21ویں اجلاس میں 123 اراکین ساتوں دن اجلاس میں شریک رہے جبکہ 11 اراکین ایسے تھے جو پورے اجلاس میں ایک دن بھی شریک نہیں ہوئے۔ اس اجلاس کے 5ویں دن سب سے زیادہ 297 اراکین نے حاضری دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اراکین اسمبلی کی چھٹیاں اراکین قومی اسمبلی کی چھٹیوں کی درخواستیں بیرسٹر گوہر فافن رپورٹ قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر فافن رپورٹ قومی اسمبلی قومی اسمبلی کے بیرسٹر گوہر پارلیمنٹ کی اجلاس میں کی چھٹیاں جاتی ہے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔