پنجاب اسمبلی: بے گھر افراد کا بل پیش، ریاست ملازمین کا احساس کرے، ریٹائرمنٹ فوائد دے: حکومتی رکن
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی کا اجلاس 1 گھنٹہ 23 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑکی صدارت میں شرو ع ہوا۔اجلاس تاخیر سے شروع کرنے پر اپوزیشن ارکان نے اجلاس میں خاموشی سے کھڑے ہوکر احتجاج ریکارڈ کرایا،گذشتہ روز بھی وقفہ سوالات کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں محکمہ جنگلات کے سیکرٹری موجود نہیں تھے اپوزیشن رکن احمر بھٹی نے تجویز دی کہ اجلاس کی کارروائی روکنے کی بجائے جو سیکرٹری نہ آئے اس کی ایک دن کی تنخواہ کاٹی جائے۔پیپلز پارٹی کی رکن نرگس فیض نے کہا کہ،لاہور میں ایک افسوس ناک واقعہ ہوا جس میں ماں اور بیٹی جاں بحق ہوئی ہیں، اور یہاں ایوان میں اس کا ذکر بھی نہیں ہوا، ہم اتنا سوئے ہوئے ہیں؟ اپوزیشن رکن امتیاز محمود شیخ نے کہا کہ ماں اور بیٹی گٹر میں گر جاتی ہے،شوہر نے شور مچایا تو پولیس نے چھ گھنٹے کے لیے شوہر کو گرفتار کر لیا تاکہ گڈ گورننس کا پردہ چاک نہ ہواب پتنگ بازی پر نئی اختراع نکال لی۔کسی لیڈر کے نام لینے پر پابندی سے کسی کا نام نہیں مٹتا ، حکومت نے کون سے اہداف پورے کیے ،ہائر ایجوکیشن کمیشن 39 ارب رکھا 422 بلین خرچ کیے،کامرس اینڈ انڈسٹری 12 بلین رکھا خرچ کیا دو بلین،ایگری کلچر اسی ارب رکھے اٹھارہ ارب خرچ کیے،ہائر ایجوکیشن کمیشن 39 ارب رکھا 422 بلین خرچ کیے،ہیومن رائٹس کے لیے چار بلین رکھا خرچ کیا صفر،لوکل گورنمنٹ ایک سو بیالیس ملین۔ رکھا گیا صرف سینتیس ملین خرچ کیے،حکومت کہ ساری توجہ سمینٹ سریے پر رہی،حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ نے کہا دنیا کا سب سے آسان کام سڑکیں بنانا ہوتا ہے اگر وہ بھی بروقت نہ ہو تو یہ سوالیہ نشان ہے۔فلڈ میں بجٹ کہاں سے خرچ ہوا یہ میرا سوال ہے،پنجاب حکومت کا جو لون ہے اس کا اگر جواب دیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ ہمارے صوبے کی کیا صورتحال ہے ۔ ڈویلپمنٹ بجٹ کا آدھے سے زیادہ بجٹ متفرق خرچ ہوا ، اس کی کیا تفصیلات ہیں یہ کچھ معلوم نہیں ،اپوزیشن رکن بریگیڈئیر (ر) مشتاق نے کہا کہ مائنز اینڈ منرل کا ٹارگٹ تیس بلین تھا لیکن ابھی تک ٹوٹل 10.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی خرچ کیے نے کہا
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔