بجٹ اجلاس سے قبل نریندر مودی کے بیانات منافقت سے بھرپور ہیں، جے رام رمیش
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا کہ وزیراعظم نہ قومی امور پر حزبِ اختلاف کو اعتماد میں لینے کیلئے کل جماعتی اجلاس بلاتے ہیں اور نہ ہی انکی صدارت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس نے بجٹ اجلاس کے آغاز سے قبل وزیراعظم نریندر مودی کے بیانات کو منافقت سے بھرپور قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اجلاس سے پہلے قوم کے نام پیغام دینا وزیراعظم کا معمول بن چکا ہے، مگر عملی طور پر نہ تو حزبِ اختلاف کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کے اندر سنجیدہ مکالمہ کیا جاتا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم نہ قومی امور پر حزبِ اختلاف کو اعتماد میں لینے کے لئے کل جماعتی اجلاس بلاتے ہیں اور نہ ہی ان کی صدارت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم قومی مسائل پر مشاورت کے بجائے حکومت یک طرفہ فیصلوں کو ترجیح دیتی ہے، جس سے پارلیمانی جمہوریت کی روح متاثر ہوتی ہے۔
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت اکثر آخری وقت میں اہم بل پیش کرتی ہے اور مناسب قانون ساز جانچ پڑتال کے بغیر انہیں پارلیمنٹ سے منظور کرا لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں بیٹھ کر حزبِ اختلاف کے سوالات اور خدشات کا جواب دینے کے بجائے دونوں ایوانوں میں انتخابی جلسوں جیسے خطابات کرتے ہیں، جو پارلیمانی روایت کے منافی ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق ہر اجلاس سے پہلے پارلیمنٹ کو پس منظر بنا کر قوم کے نام پیغام دینا وزیراعظم کی مستقل روش بن چکی ہے مگر ان پیغامات میں شفافیت اور جواب دہی کے بجائے سیاسی بیان بازی غالب ہوتی ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ آج کا بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی نے بجٹ اجلاس کے آغاز پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ ایک پرعزم ہندوستان کے لئے ہے اور اس سے صنعت کاروں کو نئی منڈیوں تک رسائی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک طویل عرصے سے چلے آ رہے مسائل سے باہر نکل رہا ہے اور دیرپا حل کی سمت بڑھ رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے زور دیا کہ اب رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے حل تلاش کرنے کا وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت محض فائلوں تک محدود نہیں بلکہ فلاحی منصوبوں کی آخری سطح تک ترسیل کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے انسانی مرکزیت پر مبنی ترقی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔
کانگریس کا موقف ہے کہ حکومت کے یہ دعوے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ کانگریس پارٹی کے مطابق اگر واقعی پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا مقصود ہے تو وزیراعظم کو ایوان کے اندر موجود رہ کر سوالات کا جواب دینا چاہیئے، قانون سازی میں شفافیت لانی چاہیئے اور حزبِ اختلاف کے ساتھ بامعنی بات چیت کرنی چاہیئے۔ کانگریس نے کہا کہ صرف تقاریر اور دعووں سے جمہوری اقدار مضبوط نہیں ہوتیں، اس کے لئے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے بجائے ہے اور
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :