پی آئی اے نجکاری کا عمل مکمل، ٹرانزیکشن سے متعلق دستخط ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
فوٹو: اسکرین گریب
قومی ایئرلائن کی نجکاری کے سلسلے میں حکومت اور عارف حبیب کنسوریشم کے درمیان ٹرانزیکشن سے متعلق دستخط ہوگئے۔
اسلام آباد میں ہونے والی اس تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کی تقریب تاریخی اہمیت کی حامل ہے، جس پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں۔
اسلام آباد پاکستان کا اسلام آباد ایئرپورٹ کو.
ان کا کہنا تھا کہ عارف حبیب کنسورشیم کا ملکی صنعتی ترقی میں اہم کردار ہے۔ یقین ہے کہ آرام دہ سفر، تحفظ اور وقار قومی ایئرلائن کی اہم ترجیح ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی ایئرلائن کا ہوابازی کے شعبے میں اہم مقام تھا، پُرامید ہیں کہ قومی ایئرلائن کی عظمت رفتہ رفتہ بحال ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری کا عمل شفاف انداز میں بخوبی انجام کو پہنچا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور حکومتی ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔
نجکاری کے عمل میں بھرپور شرکت پر کنسورشیم کا کردار لائق تحسین ہے جبکہ مشیر نجکاری نے پرائیویٹائزیشن کے عمل میں بہت اہم کردار ادا کیا، تمام چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے انتہائی شفاف انداز میں نجکاری مکمل ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بہترین سفری سہولتوں کی فراہمی سے قومی ایئرلائن ایک بار پھر اپنا نام پیدا کرے گی۔
اسلام آبادوزیراعظم محمدشہباز شریف نے عالمی...
اس موقع پر مشیر نجکاری محمد علی کا کہنا تھا کہ دستخط کی تقریب ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے، کنسوریشم 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 125 ارب روپے قومی ایئرلائن کی استعدادکار میں اضافے پر خرچ ہوں گے۔ 55 ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوں گے۔
تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے عارف حبیب کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے قومی کاز کےلیے خود کو پیش کیا، ملک میں کاروبار کےلیے ماحول سازگار ہے، میکرو اکنامک استحکام کی بدولت سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی ایئرلائن کی اسلام ا باد
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔